ترک فوج کی فضائی بمباری اور لڑائی میں 35 کرد باغی ہلاک

جنوب مشرقی صوبے میں باغیوں کے ایک فوجی اڈے پر حملے میں 8 ترک فوجی بھی مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے جنوب مشرقی صوبے حکاری میں فوج نے ہفتے کے روز علی الصباح فضائی بمباری اور جھڑپوں میں پینتیس کرد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔

ترک فوج نے ایک تحریری بیان میں بتایا ہے کہ کالعدم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) سے تعلق رکھنے والے باغی جنگجوؤں نے صوبے حکاری کے ضلع چکرچا میں واقع ایک فوجی اڈے پر جمعے کی رات حملہ کیا تھا۔اس کے بعد فوجیوں اور ان کے درمیان کئی گھنٹے تک جھڑپیں ہوتی رہی ہیں اور ان میں آٹھ فوجی بھی مارے گئے ہیں اور پچیس زخمی ہوئے ہیں۔

فوج کے بیان کے مطابق کرد جنگجوؤں نے تین گروپوں کی شکل میں بیس پر حملہ کیا تھا اور وہاں قبضے کی کوشش کی تھی۔ان کے خلاف کارروائی میں لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا ہے اور ان کے فضائی حملوں میں 23 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔چار کردی باغی فوج کی جوابی زمینی کارروائی میں ہلاک ہوئے ہیں اور باقی آٹھ چکرچا میں جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔

ترک سکیورٹی فورسز اور کرد باغیوں کے درمیان جولائی 2015ء سے لڑائی جاری ہے اور یہ لڑائی حکومت اور کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے درمیان دوسالہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد چھڑی تھی۔اس دوران ترک فوج نے قریباً چھے ہزار کرد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ ملک کے جنوب مشرق میں واقع کرد اکثریتی علاقوں میں کرد باغیوں کے حملوں اور جھڑپوں میں چھے سو سے زیادہ فوجی ،پولیس افسر اور دیہی محافظ ہلاک ہوچکے ہیں۔

ترک فوج عراق کے شمال میں واقع قندیل کے پہاڑی سلسلے میں بھی اس کالعدم گروپ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہی ہے۔کرد باغی شمالی عراق سے سرحد پار ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔واضح رہے کہ ترکی کے علاوہ امریکا اور یورپی یونین نے بھی پی کے کے کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں