صدر ایردوآن کی تقریر پر پابندی ،ترکی کی جرمنی پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی نے ایک جرمن عدالت کی جانب سے صدر رجب طیب ایردوآن کے ویڈیو لنک کے ذریعے کولون شہر میں اپنے حامیوں سے خطاب پر پابندی عاید کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔

جرمنی میں آباد غیرملکی تارکینِ وطن میں ترکوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور وہاں قریبا تیس لاکھ ترک مقیم ہیں۔ وہ آج کولون میں صدر ایردوآن کے حق میں اور 15 جولائی کو ملک میں فوجی بغاوت کے خلاف ایک بڑی ریلی نکالنے والے ہیں۔اس میں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ترک صدر ایک ویڈیو لنک کے ذریعے ریلی سے خطاب کرنے والے تھے۔

اس موقع پر اس ریلی کے خلاف بھی ترک صدر کے مخالفین کی جانب سے چھوٹے چھوٹے مظاہروں کا اہتمام کیا جارہا ہے اور ان میں سے ایک کو ''ایردوآن کو روکیں'' کا نام دیا گیا ہے۔دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے ایک اور مظاہرے کی اپیل کی ہے جس سے اس تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ مظاہرین میں آپس میں جھڑپیں ہوسکتی ہیں۔

جرمنی کی دستوری عدالت نے کسی قسم کے دنگا فساد سے بچنے کے لیے صدر ایردوآن کی تقریر براہ راست دکھانے پر پابندی عاید کردی ہے۔اس کے ردعمل میں ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کیلن نے کہا ہے کہ یہ پابندی ناقابل قبول ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''جمہوریت ،آزادی اور قانون کی حکمرانی کے حق میں اور 15 جولائی کی فوجی بغاوت کے خلاف جلسے کے انعقاد کو روکنے کے لیے عملی اور قانونی کوشش اظہار رائے کی آزادی اور اجتماع کے آزادانہ حق کے منافی ہے''۔

''ہم اس کی حقیقی وجہ جاننا چاہتے ہیں کہ جرمن حکام اور دستوری عدالت نے صدر ایردوآن کے پیغام پر پابندی کیوں عاید کی ہے اور یہ توقع کرتے ہیں کہ جرمن حکام اس کی کوئی اطمینان بخش وضاحت کریں گے''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

جرمن حکام نے کولون میں ترک صدر کے حق میں ریلی کے موقع پر ستائیس سو پولیس افسر تعینات کیے ہیں۔ترکی اور جرمنی کے درمیان پہلے ہی کشیدگی پائی جارہی ہے۔دونوں ملکوں میں یہ کشیدگی جرمن پارلیمان میں ایک قرارداد کی منظوری کے بعد پیدا ہوئی تھی جس میں پہلی عالمی جنگ کے دوران 1915ء میں سلطنت عثمانیہ کی فوجوں کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو نسل کشی قراردیا گیا تھا۔جرمن چانسلر اینجیلا میرکل نے بھی حالیہ دنوں میں ترک صدر پر فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں