.

محمود عباس ایرانی اپوزیشن رہنما سے ملنے والے پہلے عرب صدر!

’ایرانی رجیم خطے میں مذہبی انتہا پسندی کے فروغ کی جڑ ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے دورہ فرانس کے دوران پیرس میں اپنی رہائش گاہ پر فرانس میں جلا وطن کے طور پر مقیم ایرانی خاتون اپوزیشن رہ نما اور مجاھدین خلق کی سربراہ مریم رجوی سے ملاقات کی۔ کسی عرب صدر مملکت کی ایرانی اپوزیشن لیڈر سے اپنی نوعیت کی پہلی باضابطہ ملاقات ہے۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صدر عباس اور مریم رجوی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مسئلہ فلسطین پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقائی بحرانوں، دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی پر بھی بات چیت کی گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانس میں ایرانی نیشنل کونسل برائے مزاحمت کے سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ محمود عباس نے ملاقات کے دوران خطے میں مذہبی انتہا پسندی پر تفصیل سے بات چیت کی۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال بالخصوص فلسطین کے تازہ ترین حالات اور فرانسیسی امن مساعی کے بارے میں رجوی کو بریفنگ دی۔

اس موقع پر مریم رجوی نے فلسطینی صدر محمود عباس اور فلسطینی انقلابی تنظیموں کی جانب سے ایرانی تحریک مزاحمت کی حمایت کرنے پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کی عالمی سفارت کاری کے میدان میں حاصل ہونے والی کامیابیوں اور فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق ومطالبات کی حمایت میں اضافے پر فلسطینی صدر کو مبارک باد بھی پیش کی۔

مریم رجوی کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق، شام، لبنان، یمن اور دوسرے عرب ملکوں میں ایران ملائیت نے اپنا اثرو رسوخ پھیلانے اور ان ملکوں کو اپنے شکنجے میں جکڑنے کی سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نو جولائی کو پیرس میں منعقدہ کانفرنس پرایرانی رجیم سیخ پا تھی جس سے تہران کی حقیقت کھل کرسامنے آگئی۔

خیال رہے کہ صدر محمود عباس پہلے عرب صدر ہیں جنہوں نے فرانس میں مقیم ایرانی اپوزیشن لیڈر سے پہلی بار باضابطہ طور پر ملاقات کی ہے۔ ان کی اس ملاقات پرایران میں سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ ملاقات پرایرانی وزارت خارجہ کے مشیر حسین شیخ الاسلام نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’صدر عباس کی ملاقات سے فلسطینی صدر کی ملاقات اسلامی انقلاب سے دشمنی کا مظہر ہے۔ فلسطینی قیادت کی جانب سے اس نوعیت کا طرزعمل ہم ایک عرصے سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں‘۔