.

مستقبل میں بغاوت کا راستہ روکنے کے لیے فوجی ہیئت مقتدرہ تبدیل کی: ترک حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی مسلح افواج میں جامع تبدیلیوں کا مقصد فوج کو مستقبل میں کسی حکومت مخالف انقلاب یا بغاوت میں ایک تختہ مشق کے طور پر استعمال ہونے سے روکنا ہے جبکہ ترکی کی جدید مسلح افواج خطے میں زیادہ بااثر ثابت ہوں گی۔

یہ بات ترک حکومت کے ترجمان اور نائب وزیراعظم نعمان قرطلمس نے سوموار کے روز انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ ایک صدارتی فرمان کے تحت مسلح افواج میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بارے میں بتایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں کوئی حادثاتی طور پر نہیں کی گئی ہیں بلکہ مستقبل کے مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں۔اس کا پہلا مقصد سول اتھارٹی کو زیادہ بااختیار بنانا ہے۔اسی لیے سپریم ملٹری کونسل میں سویلینز کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ دوسرا مقصد مسلح افواج کو کسی ایک اتھارٹی کے کنٹرول سے آزاد کرنا تھا۔اسی لیے جینڈرمیری (نیم فوجی دستوں) اور کوسٹ گارڈ ( ساحلی محافظوں) کو وزارت داخلہ کے ماتحت کردیا گیا ہے اور باقی مسلح افواج کے کمانڈروں کو وزارت دفاع کے ماتحت کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام ملٹری اسکولوں کو بند کرکے اب ایک نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی قائم کی جارہی ہے۔اس کا مقصد ترک فوج کے انسانی وسائل کو متنوع بنانا ہے۔ان تبدیلیوں کا آخری مقصد مسلح افواج کو زیادہ پیشہ ور فوج بنانا ہے جو صرف اور صرف ملک کے دفاع پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔

نعمان قرطلمس نے بتایا کہ چیف آف جنرل اسٹاف کا اب ایوان صدر سے واسطہ ہوگا۔انھوں نے ان دعووں کو مسترد کردیا کہ اس سے فوج کے اعلیٰ عہدے داروں کی اہمیت گھٹ جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ چیف آف جنرل اسٹاف کوئی علامتی عہدہ نہیں ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''حکومت ملک میں مزید فعال اور موثر انٹیلی جنس نظام کی تشکیل کے لیے بھی کام کررہی ہے اور فوج اور انٹیلی جنس میں جو بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں،ان کا شخصیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ہمیں ایک ایسا انٹیلی جنس نظام قائم کرنا چاہیے جس کی ترجیح ریاست کی سکیورٹی سے متعلق انٹیلی جنس معلومات مہیا کرنا ہو،نہ کہ وہ لوگوں کی سراغرسانی کرتی پھرے''۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اتوار کے روز ملک میں نافذ ایمرجنسی قانون کے تحت ایک نیا صدارتی فرمان جاری کیا تھا جس کے تحت مسلح افواج کو براہ راست سویلین قیادت کے ماتحت کردیا گیا ہے اور صدر اور وزیراعظم آرمی ،فضائیہ اور بحریہ کے کمانڈروں کو براہ راست احکامات جاری کرسکیں گے۔

اسی صدارتی حکم نامے کے تحت مسلح افواج کے مزید 1389 اہلکاروں اور افسروں کو15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت سے تعلق کے الزام میں برطرف کردیا گیا ہے۔ان میں صدر ایردوآن کے پہلے سے گرفتار فوجی مشیراعلیٰ ،چیف آف جنرل اسٹاف کے دفتر کے ناظم الامور اور وزیردفاع کے چیف سیکریٹری بھی شامل ہیں۔