.

امریکا کی لیبیا میں داعش مخالف فضائی مہم کا آغاز

امریکی طیاروں کی سرت میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری ،متعدد جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے لڑاکا طیاروں نے لیبیا میں پہلی مرتبہ داعش کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔امریکا نے لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کی درخواست پر داعش کے جنگجوؤں کے خلاف اس نئی فضائی مہم کا آغاز کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ثالثی اور حمایت سے قائم ہونے والی صدارتی کونسل کے سربراہ فائز السراج نے سوموار کے روز ایک نشری بیان میں کہا ہے کہ ''امریکی لڑاکا طیاروں نے لیبیا کے شمال میں واقع شہر سرت میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے لیکن ملک میں کوئی امریکی فوج تعینات نہیں کی جائے گی''۔

انھوں نے کہا کہ ''صدارتی کونسل نے آرمی کی جنرل کمانڈر ہونے کے ناتے امریکا سے مخصوص فضائی حملے کرنے کی درخواست کی تھی۔آج سرت میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری سے ان حملوں کا آغاز ہوا ہے اور ان سے بھاری جانی نقصان ہوا ہے''۔

ان فضائی حملوں میں داعش کے ایک ٹینک اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس طرح امریکا لیبیا میں بھی داعش مخالف جنگ میں شریک ہوگیا ہے۔سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے آبائی شہر سرت میں لیبیا کی قومی حکومت کے تحت فورسز مئی سے داعش کے خلاف جنگ لڑرہی ہیں۔ان فورسز میں زیادہ تر کا تعلق مصراتہ سے ہے۔داعش نے گذشتہ سال سے اس شہر پر بیشتر علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے۔

ادھر واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان پیٹر کُک نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما نے وزیردفاع ایش کارٹر اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ کی سفارش پر ان فضائی حملوں کی منظوری دی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ سرت میں داعش کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے جائیں گے اور یہ ہماری مقامی اہل فورسز کے ساتھ مل کر داعش کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے تحت کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سال کے اوائل میں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ لیبیا میں داعش کے قریباً چھے ہزار مزاحمت کار موجود ہیں۔ان میں سے ایک معقول تعداد شام سے لیبیا لوٹی تھی۔حالیہ مہینوں میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لیبیا میں داعش کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔یہ جنگجو گروپ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت اور مقامی ملیشیاؤں کے دباؤ میں ہے اور اس کی تعداد میں بھی نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے گذشتہ ہفتے ہی یہ کہا تھا کہ لیبیا میں داعش کو ممکنہ شکست کا سامنا ہے اور جنرل ڈنفورڈ نے وسط جولائی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ سرت میں داعش کے چند سو جنگجو رہ گئے ہیں۔وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہوچکے ہیں اور انھیں بنغازی کے آس پاس کے علاقوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

یادرہے کہ امریکا کے ایک لڑاکا بمبار نے فروری میں تیونس کی سرحد کے نزدیک لیبیا کے دیہی علاقے میں داعش کے ایک تربیتی کیمپ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں چالیس سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔