.

سعودی عرب : یمن میں حوثی، صالح اتحاد کی سیاسی کونسل کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتی کونسل نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے پیروکاروں کے درمیان ملکی امور چلانے کے لیے ایک نئی سیاسی کونسل کی تشکیل سے متعلق معاہدے کی مذمت کردی ہے اور اس کو یمنی عوام کے مصائب کے خاتمے اور بحران کے حل کی راہ میں ایک رکاوٹ قرار دیا ہے۔

سعودی کابینہ نے حوثیوں اور صالح کے پیروکاروں کے درمیان اس معاہدے کو عرب لیگ ،اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور خلیج تعاون کونسل کے یمنی بحران کے حل کے لیے امن اقدام کی ننگی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

سعودی کابینہ کا اجلاس ولی عہد ،نائب وزیراعظم اور وزیرداخلہ شہزادہ محمد بن نایف کے زیر صدارت السلام محل جدہ میں ہوا اوراس میں داخلی سلامتی سے متعلق مختلف امور کے علاوہ یمن کی صورت حال پر غور کیا گیا۔

سعودی وزیر اطلاعات وثقافت عادل الطریفی نے بتایا ہے کہ کابینہ نے بعض غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اتحادی فورسز کی کمان یمنی علاقوں میں انسانی امداد پہنچانے کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

کابینہ نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب یمن میں انسانی امداد مہیا کرنے والا سب سے بڑا ڈونر ملک ہے اور وہ اب تک پچاس کروڑ ڈالرز سے زیادہ مالیت کا امدادی سامان اور خوراک مہیا کر چکا ہے۔