.

سعودی قیادت میں عرب اتحاد اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے خارج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کا نام بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب گروپوں کی بلیک لسٹ سے نکال دیا ہے۔اتحاد کا نام یمن میں سیکڑوں بچوں کی ہلاکتوں کے الزام میں بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔

سیکریٹری جنرل نے منگل کے روز سلامتی کونسل میں بچوں اور مسلح تنازعات کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ پیش کی ہے اور اس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کا نام خارج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد میں متحدہ عرب امارات ،بحرین ، کویت ،قطر ،مصر ،اردن ،مراکش ،سینی گال اور سوڈان شامل ہیں۔

بین کی مون نے قبل ازیں اس اتحاد کو بلیک لسٹ سے عارضی طور پر نکال دیا تھا۔اس کا نام رپورٹ کے ضمیمے میں شامل تھا اور اب اس رپورٹ کا مشترکہ طور پر جائزہ لیا گیا ہے۔سعودی عرب نے مبینہ طور پر اتحاد کا نام بلیک لسٹ کرنے پر اقوام متحدہ کے تحت اداروں کے لیے امدادی رقوم بند کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن سعودی عرب نے ایسی کسی دھمکی کی تردید کی تھی۔

اقوام متحدہ نے اتحاد کا نام بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے گروپوں کی فہرست میں شامل کیا تھا اور اس پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ یمن میں گذشتہ سال بچوں کی 785 ہلاکتیں میں سے 60 فی صد کا ذمے دار ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے رپورٹ میں یمن میں بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق بیان کردہ حقائق کا اتحاد سے مل کر مشترکہ جائزہ لینے سے اتفاق کیا تھا۔انھوں نے سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر سے الگ الگ ملاقات کی تھی۔اقوام متحدہ نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد بلیک لسٹ کے معاملے پر آج کے اجلاس سے پہلے کوئی فیصلہ کر لے گا۔