.

مغرب باغیوں اور دہشت گردوں کے ساتھ کھڑا ہے: صدر ایردوآن

ہمیں اپنے دوستوں کی جانب سے وہ حمایت نہیں ملی ہے جس کی ہم ان سے توقع کررہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآں نے مغرب پر دہشت گردی اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے والے باغیوں کی حمایت کا سنگین الزام عاید کیا ہے اور 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی کے اتحادیوں کی جانب سے غیراطمینان بخش حمایت پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

وہ منگل کے روز انقرہ میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا:'' میں اب یہ پوچھتا ہوں :کیا مغرب دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے یا نہیں؟ کیا مغرب جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہے یا حکومت کا تختہ الٹنے والے باغیوں اور دہشت گردوں کے ساتھ ہے؟ بدقسمتی سے مغرب دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے اور باغیوں کے ساتھ کھڑا ہے''۔

انھوں نے ایک مرتبہ پھر یہ گلہ کیا ہے کہ ''ہمیں اپنے دوستوں کی جانب سے وہ حمایت نہیں ملی ہے جس کی ہم ان سے توقع کررہے تھے۔یہ حمایت ہمیں فوجی بغاوت کے دوران ملی ہے اور نہ اس کے بعد ملی ہے۔کسی مغربی لیڈر نے ترک عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی اور شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر ترکی کا دورہ کرنا گوارا نہیں کیا ہے۔اس سلسلے میں بغاوت کے دوران اور اس کے بعد ان کے بیانات دیکھنا ہی کافی ہے''۔

صدر ایردوآن نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی مختصراً مذمت کی گئی تھی مگر ان میں ترک حکومت کے گولن تحریک کے خلاف اقدامات پر تشویش کا اظہار زیادہ کیا گیا ہے۔انھوں تمام یورپی سیاست دانوں کو دعوت دی ہے کہ وہ ترکی آئیں اور پارلیمان ،محکمہ پولیس اور دوسرے ریاستی اداروں کو دیکھیں جن پر باغیوں نے بمباری کی تھی۔

ترک صدر نے غصے بھرے انداز میں کہا کہ ایک ایسے ملک میں فوجی بغاوت برپا کی گئی جہاں جمہوریت کی حکمرانی ہے۔اس میں 238 افراد شہید ہوئے اور قریباً 2200 افراد زخمی ہوئے تھے۔اس کے باوجود آپ ابھی تک کہہ رہے ہیں کہ ''ہمیں تشویش لاحق ہے''۔

ترک صدر نے خاص طور پر جرمنی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس نے انھیں اتوار کے روز کولون میں ترک تارکین وطن کی ایک ریلی سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب سے روک دیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ''جرمن عدالتیں بڑی تیزی سے کام کررہی ہیں۔جرمنی کی دستوری عدالت نے فوری طور پر اپنا فیصلہ سنا دیا تھا لیکن ان عدالتوں کو جب ترکی کی جانب سے دہشت گردوں سے متعلق دستاویز دی گئی تو بعض عدالتیں ان پر کارروائی پر متردد تھیں''۔

انھوں نے جرمنی کی قیادت کو یاد دلایا کہ ماضی میں دہشت گرد تنظیم کے لیڈر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ان کے ملک میں تقریریں کرتے رہے تھے۔انھوں نے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان مارچ میں طے پائے معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ''یہ ہم تھے جنھوں نے تیس لاکھ شامیوں کو یورپ کا رُخ کرنے سے روکا تھا۔ہم نے یورپ کا دفاع کیا لیکن انھوں نے اپنے الفاظ کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔انھوں نے ابھی تک شامی مہاجرین کے لیے تین ارب یورو کی رقم منتقل نہیں کی ہے اور ترکی شہریوں کے یورپی ممالک میں جون تک ویزا فری داخلے سے متعلق وعدے کو بھی ایفاء نہیں کیا ہے۔