.

حوثیوں اور علی صالح پر یمن کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم 18 ممالک کے کل منگل کے روزسفیروں کی سطح پر ہونے والے اجلاس میں مںحرف صدر علی عبداللہ صالح اور ایران نواز شیعہ حوثی باغیوں کو یمن کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 18 ملکوں کے سفیروں کے مشترکہ اجلاس میں یمن میں آئینی حکومت اور صدر عبد ربہ منصور ھادی کی مکمل تائید اور حمایت کا اعلان کرنے کے ساتھ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں جس سے یمن کی سالمیت، وحدت، سلامتی اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ نیز عالمی برادری کھل کر یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی کا ساتھ دے تاکہ ملک میں جاری بغاوت کو ختم کیا جاسکے۔

اجلاس میں یمن میں حوثی باغیوں اور منحرف صدر علی عبداللہ صالح کی حامی ملیشیا کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں قرار دیا گیا کہ یمن کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی تمام تر ذمہ داری ایران نواز حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح پرعاید ہوتی ہے جو ملک میں آئینی حکومت اور پوری قوم کے خلاف برسرجنگ ہیں۔

ڈیڑھ درجن ممالک کے سفیروں نے یمن کے متحارب فریقین پر بھی زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 کی روشنی میں سیاسی عمل کا آغاز کریں اورباہمی مشاورت سے سیاسی تنازعات کا حل تلاش کریں۔