.

نوبل انعام یافتہ مصری سائنسدان کا امریکا میں انتقال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری نژاد امریکی نوبیل انعام یافتہ کیمیا دان ڈاکٹر احمد زویل کل منگل کو امریکا میں 70 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق مصری سائنسدان کےترجمان کا کہنا ہے کہ احمد زویل کچھ عرصے سے علیل تھے اور انہوں نے موت سے قبل مصر میں اپنی تدفین کی وصیت کی تھی۔

احمد زویل کو سنہ 1999ء میں اس وقت نوبل انعام کا اہل قرار دیا گیا جب انہوں نے ’فیمٹو سائنس‘ پر ریسرچ کی۔ فیمٹو سائنس کے ذریعے ایٹم کے ذرات کو فیمٹو سیکنڈ میں حرکت کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔ خیال رہے کہ ایک سیکنڈ میں 10 ارب فیمٹو سکینڈ پائے جاتے ہیں۔

مرحوم کے ترجمان شریف فواد نے مصر کے سرکاری ٹی وی کو جاری ایک بیان میں بتایا کہ احمد زویل کی موت کا حقیقی سبب معلوم نہیں ہوسکا۔ یہ پتا نہیں چلا کہ ان کی موت کینسر کے باعث ہوئی یا کسی دوسری بیماری میں مبتلا تھے۔ ان کے ڈاکٹر نے ایک ہفتہ قبل ان سے رابطہ کیا تب ان کی حالت بہتر تھی۔

ترجمان نے بتایا کہ مرحوم سائنسدان کی بیوہ نے انہیں بتایا ہے ان کے شوہر نے مرنے سے قبل مصر میں اپنی تدفین کی وصیت کی تھی۔ اس کے بعد ان کی میت مصر میں تدفین کے لیے قاہرہ منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔

سنہ 2013ء میں ڈاکٹر زویل کے معالجین نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کے سرطان کا شکار ہیں اور مرض مشکل دور میں داخل ہوچکا ہے تاہم ڈاکٹروں نے ان کا علاج بھی شروع کردیا تھا۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ڈاکٹرا حمد زویل کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اسے پوری قوم کے لیے افسوسناک خبر قرار دیا ہے۔

مصری ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مصری قوم آج ایک نابغہ روزگار سائنسدان سے محروم ہوگئی ہے۔ ڈاکٹرو زویل کی وفات نے پوری قوم کو صدمے سے دوچار کیا ہے۔ انہوں نے دنیا میں مصر کا نام روشن کیا تھا‘۔

مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے بھی سائنسدان کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ڈاکٹر زویل کی سائنسی خدمات اور مساعی کی ایک دنیا معترف تھی۔

ڈاکٹر زویل کا 70 سالہ سفر زیست

احمد زویل سنہ 1946ء کو مصر کے دمنھور شہر میں پیدا ہوئے۔ امریکا جانے سے قبل انہوں نے مصر ہی سے ایم ایس سی کیا۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کےحصول کے لیے امریکا روانہ ہوگئے جہاں پنسلوینیا یونیورسٹی سے اپنے متعلقہ مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران انہوں نے بیرکلے شہر میں کیلیفورنیا یونیورسٹی سے بھی پی ایچ ڈی کیا اور کیلیفورنیا ہی میں ایک ٹیکنالوجی انسٹیٹیوٹ میں تدریس شروع کردی۔

سنہ 2009ء میں انہیں صدر براک اوباما نے وائیٹ ہاؤس کی مشاورتی کونسل کارکن مقرر کیا۔ اسی سال انہیں امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے امریکا کا سائنسی نمائندہ مقرر کیا گیا۔

ڈاکٹر زویل نے سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں درجنوں ایوارڈ اور تمغے حاصل کئے، سائنس، فنون، فلسفہ، قانون، طب اور لٹریچر میں انہیں 50 کے قریب اعزازی ڈگریاں جاری کی گئیں۔

انہوں نے 100 عالمی ایوارڈ حاصل کیے جن میں بین الاقوامی شہرت یافتہ البرٹ آئن سٹائن ایوارڈ، بنجمن فرینکلن، لیونارڈو ڈیونچی، شاہ فیصل ایوارڈ اور پریسلے ایوارڈ خاص طور پر شامل ہیں۔

ڈاکٹر زویل امریکا اور یورپ کی متعدد جامعات کی سائنسی تحقیقاتی کمیٹیوں کے رکن رہے اور سائنس اور فلسفے کے شعبوں میں سرگرم تنظیموں کی بھی نمائندگی کی۔ ان میں امریکا کی فلسفہ آرگنائزیشن، نیشنل اکیڈیمک سائنس، لندن کی شاہی اکیڈمی، فرانس، روس، چینی اور سویڈن کی جامعات اور سائنسی تنظیموں کے ساتھ بھی اپنا تعلق قائم کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے انہیں عالمی ادارے کی سائنسی کونسل کا رکن مقرر کیا۔ مصر میں انہیں ’نیل ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ نیل ایوارڈ مصر کا سب سے اعلیٰ سرکاری اعزاز قرار دیا جاتا ہے۔