ناروے : چیچن اور پاکستانی نژاد جنگجو کو داعش میں شمولیت پر جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک عدالت نے پاکستان اور چیچینیا سے تعلق رکھنے والے دو جنگجوؤں کو شام میں داعش میں شمولیت کے الزام میں قصور وار قرار دے کر بالترتیب چھے اور ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے چیچن نژاد روسی شہری 23 سالہ آدم ادریسوچ مغمادوف اور 46 سالہ پاکستانی نژاد ناوریجیئن شہری حسن احمد کو داعش سے تعلق کے علاوہ دہشت گردی کی سازش کے الزام میں قصور وار قراردیا ہے۔استغاثہ نے انھیں جیل کی سزائیں سنانے کی استدعا کی تھی۔

دونوں ملزم ناروے کے جنوب مشرقی علاقے میں رہ رہے تھے اور وہ دونوں اکٹھے اگست 2014ء میں خانہ جنگی کا شکار شام میں لڑنے کے لیے گئے تھے۔اس وقت داعش کو عراق اور شام میں اپنی خلافت کا اعلان کیے ابھی ڈیڑھ ایک مہینہ ہی ہوا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قراردیا ہے کہ ان دونوں نے داعش کے تربیتی پروگرام میں شرکت کی تھی،اس گروپ کی بیعت کی تھی اور اس کے نام پر ہتھیار اٹھائے تھے۔چیچن آدم ادریسوچ کو شام میں زیادہ دیر رہنے کی وجہ سے حسن سے ڈیڑھ سال زیادہ قید کی سنائی گئی ہے۔

عدالت کے مطابق اس بات کا قومی امکان ہے کہ اس نے شام میں لڑائی میں حصہ لیا تھا۔اس نے ناروے میں واپسی کے بعد بھی داعش کے ساتھ اپنے روابط برقرار رکھے تھے اور وہ بھی اپنے شریک مجرم کی طرح دوبارہ شام جانا چاہتا تھا۔

پاکستانی نژاد حسن احمد کے بیٹے اسحاق کو بھی گذشتہ سال ناروے کی ایک عدالت نے داعش میں شمولیت کے الزام میں قصور وار قرار دے کر آٹھ سال قید کی سزا سنائی تھی۔حسن احمد اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ ان کے وکلاء نے سرکاری نشریاتی ادارے ''این آر کے'' کو بتایا ہے کہ آدم ادریس نے ابھی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں