.

روحانی حکومت سعودی سفارت خانے پر حملے کی سہولت کار؟

تہران میں سعودی سفارت خانے پرحملے کے ماسٹر مائنڈ کے لرزہ خیز انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں سال جنوری میں ایران کے دارالحکومت تہران میں قائم سعودی عرب کے سفارت خانے پر مسلح بلوائیوں کے ہمراہ دھاوا بولنے کے مبینہ منصوبہ ساز نے اپنے اقبالی بیان میں چونکا دینے لیے اعترافات کیے ہیں۔ سفارت خانے پر حملے کے ماسٹر مائنڈ حسین کرد میھن کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں، جب سفارت خانے پر حملہ کیا جا رہا تھا اس وقت صدر حسن روحانی کی حکومت نے بلوائیوں کو منع نہیں کیا بلکہ انہیں سہولت مہیا کی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب سمجھے جانے والے ایک مذہبی پریشر گروپ کے سربراہ اور سعودی سفارت خانے پر حملوں کے منصوبہ ساز قرار دیے جانے والے حسن میھن نے تسلیم کیا کہ انہوں نے پاسداران انقلاب، پاسیج فورس اور نجی ملیشیا ’فرزندان حزب اللہ انقلابیین‘ کے کارکنوں کو سعودی عرب کے سفارت خانے پر دھاوا بولنے پر اکسایا تھا۔

ساتھ ہی اس نے الزام عاید کیا ہے کہ جب سعودی عرب کے سفارت خانے پر دھاوا بولا جا رہا تھا اس وقت حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے نہ صرف یہ کہ روکا نہیں گیا بلکہ حسن روحانی کی حکومت بلوائیوں کی سہولت کار تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی سفارت خانے پرحملے کے مرکزی ملزم کرد میھن نے صدر حسن روحانی کے نام اخبارات میں ایک کھلا خط شائع کرایا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سعودی سفارت خانے پرحملے کے معاملے پر تہران حکومت ٹال مٹول کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ حکومت چاہتی تو سفارت خانے پر یلغار روکی جاسکتی تھی۔ یلغار کرنے والے بلوائیوں کو بھی یقین تھا کہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے انہیں سفارت خانے پرحملے کے کوشش کے دوران سختی سے روکیں گے اور نہ رکنے پر تشدد کا نشانہ بنائیں گے۔ مگر اس موقع پر سیکیورٹی حکام کی طرف سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔

’انصاف نیوز‘ میں شائع ہونے والے مکتوب میں مسٹر میھن نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنے گروپ کے ارکان کو ٹلیگرام کے ذریعے سعودی عرب کے سفارتخانے پر دھاوا بولنے کی ترغیب دی تھی۔

حکومت کی تردید

دوسری جانب ایرانی حکومت نے سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملے کے ماسٹر مائنڈ کے الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ تہران وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا کہنا ہے کہ حسین کرد میھن کی جانب سے حکومت پر ٹال مٹول اور دوغلی پالیسی اپنانے کا الزام قطعا بے بنیاد ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ’باوجود اس کہ سعودی عرب کا سفارت خانہ ایک دشمن ملک کا سفارت خانہ تھا مگر کسی گروپ کو کسی بھی دوسرے ملک کے سفارت خانے پر یلغار کا حق نہیں دیا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنا ایران کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ، قابل مذمت اور ناقابل قبول امر ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی غفلت

سعودی سفارت خانے پرحملے کے ماسٹر مائنڈ نے صدر حسن روحانی کی حکومت کو ہدف تنقید بنانے کے ساتھ ساتھ ایرانی پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اخبارات میں شائع اپنے مکتوب میں مسٹر میھن کا کہنا ہے کہ میں نے جب اپنے ساتھیوں کو سعودی عرب کے سفارت خانے پر آتش گیر بم پھینکنے کی ہدایت کی تو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کے اہلکار یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے۔

میھن کا کہنا ہے کہ صدر حسن روحانی سعودی سفارت خانے پر حملے میں براہ راست ملوث ہیں کیونکہ ان کی جانب سے پولیس کو بلوائیوں کو روکنے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس سارے کھیل کا حصہ تھی اور وہ مشتعل مظاہرین کو سعودی عرب کے سفارت خانے پر چڑھائی کی سہولت مہیا کرنا چاہتی تھی۔

خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز میں سعودی عرب میں ایک شدت پسند شیعہ مبلغ نمر النمر کو پھانسی دینے کے خلاف ایران میں پرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران تہران میں واقع سعودی سفارت خانے اور مشہد میں سعودی قونصلیٹ پرحملہ کرکے دفاتر کو نذرآتش کردیا تھا۔ بعد ازاں ایرانی پولیس نے سفارت خانے پرحملے کے مرکزی منصوبہ ساز حسین کرد میھن نامی ایک مذہبی شدت پسند کو حراست میں لے کراس کے خلاف عدالت میں مقدمہ کی کارروائی شرو ع کی ہے۔