موصل آپریشن کی نگرانی کے لیے جنرل سلیمانی کی عراق آمد

ایرانی جنرل کی نجف اور کربلاء میں عسکری گروپوں کی قیادت سے ملاقاتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم تنظیم ’فیلق القدس‘ کے سربراہ اور عرب ممالک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے میں ملوث جنرل قاسم سلیمانی رواں ہفتے دوبارہ عراق پہنچے ہیں جہاں وہ موصل شہر میں جاری فوجی آپریشن کی نگرانی کے ساتھ عراقی فوج اور نیم سرکاری ملیشیا کی رہ نمائی کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق جنرل سلیمانی دو روز قبل بغداد پہنچے تھے۔ انہوں نے عراق کے شہروں نجف اور کربلا میں سیاسی اور عسکری رہ نماؤں کے ساتھ شیعہ ملیشیا ’الحشد الشعبی‘ کی مرکزی قیادت سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

ایک دوسرے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیلق القدس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو سیکیورٹی خطرات بھی لاحق ہیں، جن کی بناء پروہ زیادہ عرصے تک بیرون ملک قیام نہیں کرتے۔ اگر وہ ایران سے باہر جائیں بھی تو وہ تین یا چار روز تک دوسرے کسی ملک میں ٹھہرتے ہیں۔ اس کے بعد جلد ہی دوربارہ وطن واپس لوٹ آتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے عراق کے شہر موصل میں جاری فوجی آپریشن کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً عراق بھی آتے ہیں۔

عراق کے ایکرکن پارلیمنٹ نے اخبار ’الشرق الاوسط‘ کو بتایا کہ جنرل سلیمانی نینویٰ گورنری میں آئے جہاں انہیں میدان جنگ کی تازہ ترین صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے موصل کی جنگ جاری رکھنے اور کم سے کم وقت میں اس آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مختلف تجاویز پرغور کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل سلیمانی عراق اور ایران کے درمیان واقع ’المنذریہ‘ سرحدی راہداری کےراستے نینویٰ میں داخل ہوئے۔ ضلع دیالی میں آمد کے بعد انہیں فول پروف سیکیورٹی میں کرکوک لایا گیا جہاں سے وہ نینویٰ گورنری پہنچے تاہم وہ اس بار بغداد نہیں گئے ہیں۔

عراقی رکن پارلیمنٹ نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ المنذریہ گذرگاہ کے ایک سیکیورٹی افسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنر سلیمانی ایک وفد کےہمراہ عراق داخل ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل سلیمانی اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کو ایران کے سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں پر لایا گیا تھا۔ وہ حسب معمول گذرگاہ پر کسی قسم کی چیکنگ کے بغیر ہی آگے بڑھ گئے۔ جنرل سلیمانی اور ان کے ہمرائیوں نےاپنے پاسپورٹس تک نہیں دکھائے۔

سیکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی اور کئی دوسرے ایرانی عہدیداروں کے لیے عراق کی سرزمین میں پاسپورٹ کے بغیر داخل ہونے کی کھلی اجازت ہے کیونکہ انہیں عراقی حکومت کا عسکری مشیر قرار دیا جاتا ہے۔

ادھر عراقی کی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے ترجمان احمد الاسدی نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ موصل کو شدت پسندوں سے آزاد کرانے کی لڑائی جاری ہے۔ جلد ہی لڑائی کی قیادت ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل سلیمانی صرف الحشد الشعبی کے عسکری مشیر نہیں بلکہ وہ فوج، فیڈرل پولیس اور عراق کی انسداد دہشت گردی فورس کی بھی مکمل رہ نمائی کرتے ہیں۔

جنرل سلیمانی عراق میں ایک ایسے وقت میں داخل ہوئے ہیں جب دوسری جانب موصل اور دیگر شہروں میں عراقی فوج کے دولت اسلامی ’داعش‘ کے خلاف جاری جنگ میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیوں کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے عراقی فوج اور اس کا دست وباز سمجھی جانے والی عسکری ملیشیا حشد الشعبی پر نہتے کے خلاف جنگی جرائم کا الزام عاید کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں