نائیجیریا: ابو مصعب البرناوی بوکو حرام کے نئے سربراہ

البرناوی کی گرجا گھروں پر بم حملے جاری رکھنے اور عیسائیوں کو قتل کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ ( داعش) نے نائیجیریا کے انتہا پسند سخت گیر گروپ بوکو حرام کے نئے سربراہ کا اعلان کیا ہے۔ان صاحب نے گرجاگھروں پر بم حملے جاری رکھنے اور عیسائیوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے جبکہ عام مسلمانوں پر مساجد اور دوسری جگہوں پر حملے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

داعش کے اخبار الانبا میں بوکو حرام کے نئے سربراہ ابو مصعب البرناوی کا بدھ کے روز ایک انٹرویو شائع ہوا ہے اور اس میں اخبار نے بتایا ہے کہ صوبہ مغربی افریقا میں وہ داعش کے نئے ولی (گورنر) ہیں۔

امریکا میں قائم سائٹ انٹیلی جنس گروپ کی جانب سے جاری کردہ اس انٹرویو کے ترجمے کے مطابق بوکو حرام کے نئے سربراہ نے کہا ہے کہ ''خطے کو عیسائی بنانے کے لیے ایک مغربی سازش پر عمل کیا جارہا ہے''۔انھوں نے خیراتی اداروں پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اپنی امداد کو اس مقصد کے لیے استعمال کررہی ہیں۔

البرناوی نے کہا:''وہ معاشرے کو عیسائی بنانا چاہتے ہیں۔انھوں نے ان لوگوں کی صورت حال سے فائدہ اٹھایا ہے جو جنگ کی وجہ سے بے گھر ہوگئے تھے۔انھیں خوراک اور پناہ دی اور پھر ان کے بچوں کو عیسائی بنا لیا''۔

قبل ازیں بوکو حرام کے طویل عرصے سے سربراہ رہنے والے ابوبکر شیکاؤ کے لیے ''ولی'' کا لفظ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔مذکورہ اخباری رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ شیکاؤ کی اب اس جنگجو گروپ میں کیا حیثیت ہے۔البتہ گذشتہ کئی ہفتوں سے یہ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ انھیں تبدیل کردیا گیا ہے۔

البرناوی کے اس انٹرویو سے نائیجیریا کے انتہا پسندوں کی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کا بھی اشارہ ملتا ہے کیونکہ وہ اس افریقی ملک میں ماضی میں مساجد میں بم دھماکے اور حملے کرتے رہے تھے اور ان کے حملوں میں عیسائیوں سے زیادہ مسلمان ہلاک ہوئے تھے۔

بوکو حرام کے جنگجو مسلمان کے گنجان آباد علاقوں میں واقع بازاروں اور مارکیٹوں میں بھی بم حملے کرتے رہے تھے اور وہ بم دھماکوں کے علاوہ کسی جگہ پر دھاوا بول کر لوگوں کو اندھا دھند فائرنگ سے بھی نشانہ بناتے تھے۔اس کے جنگجو اسکولوں پر حملے کرکے طلبہ اور طالبات کو یرغمال بنا کر ساتھ لے جاتے تھے۔واضح رہے کہ بوکو حرام کا مطلب ''مغربی تعلیم حرام'' ہے۔اس لیے وہ جدید تعلیم کے اداروں کو خاص طور پر نشانہ بناتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں