پوکیمون گو ۔۔ کلنٹن اور ٹرمپ کا حامیوں کے لیے نیا جال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی صدارت کے دونوں امیدوار ڈیموکریٹس کی ہیلری کلنٹن اور ریپبلکن کے ڈونلڈ ٹرمپ نوجوانوں نسل سے نئے حامیوں کو اپنا پروردہ بنانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اس مقصد کے لیے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے گیم "پوکیمون گو" کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

امریکی ریاست کولوراڈو میں ڈیموکریٹس کے ایک ذمہ دار Joe Makielski نے ٹوئیٹر پر دو نوجوانوں کی تصویر کے ساتھ ٹوئیٹ کیا ہے کہ "پوکیمون گو کے ان دو کھلاڑیوں نے اپنا نام انتخابات کی ووٹر لسٹ میں درج کرا لیا ہے"۔

ہیلری کلنٹن نے اپنے گزشتہ ہفتے کے خطاب کے دوران صاف طور پر کہا تھا کہ وہ ذاتی طور پر اپنی انتخابی مہم کی نگراں ٹیم کے ساتھ یہ چاہتی ہیں کہ مزید ووٹروں کو مائل کرنے کے لیے اس کھیل کی مقبولیت سے استفادہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ " مجھے نہیں معلوم کہ پوکیمون گو کس کی ایجاد ہے مگر میں یہ جاننے کی کوشش کررہی ہوں کہ اس گیم کو کھیلنے والوں کو پولنگ کے مراکز تک کس طرح کھینچ کر لایا جاسکتا ہے"۔

موبائل فونز کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے جانے والے اس گیم کو 7.5 کروڑ سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے اور نوجوانوں کے بیچ اس کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کی نگراں ٹیم اپنے ارکان کو سڑکوں ، پارکوں اور دیگر مقامات عامہ پر بھیجتے ہیں تا کہ وہ "پوکیمون گو" کھیلنے والوں کو تلاش کریں اور ان پر کھیل کے دوران ہی انتخابی فہرستوں میں اندراج کے لیے زور دیں۔

ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی نگراں ٹیم بھی اس کشتی میں سوار ہونے سے پیچھے نہیں رہی۔ نیویارک شہر میں " ٹرمپ ٹاور" پوکیمون گو کھیلنے والوں کے لیے مشہور مقامات میں سے ایک ہے۔

ریپبلکن امیدوار کی انتخابی مہم کی متعلقہ ٹیم نے گزشتہ ہفتے ایک وڈیو کلپ جاری کیا تھا جس میں ہیلری کلنٹن کو اس مشہور کھیل کے ایک دیو کی شکل میں دکھایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں