پیرس کے پُلوں پر "محبت کے تالوں" کے خلاف کریک ڈاؤن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پیرس کی بلدیہ "رومانس اور محبت کے دارالحکومت" کے طور پر شہر کی تصویر باقی رکھنے کے لیے کوشاں ہے تاہم شہر کے پُلوں پر پھیلے ہوئے مشہور زمانہ تالوں کے بغیر۔ اسی مقصد سے بلدیہ سیاحوں کو فرانسیسی دارالحکومت میں "محبت کے تالے" لٹکانے سے باز رکھنے کے لیے ایک مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس سلسلے میں "بون ڈیزار" کے بعد اب "بون نوو" کے پُل پر سے ان تالوں کو بتدریج ہٹانے پر توجہ دی جارہی ہے جو دارالحکومت میں پتھروں سے بنا سب سے پرانا پُل ہے۔

پیرس کے ڈپٹی میئر برونو جولیار کے مطابق اس مہم کے سلسلے میں " آئندہ دنوں میں متعدد پُلوں بالخصوص بون نوو پر فن پارے اور زمینی اشارے لگائیں جائیں گے"۔

محبت کے اسیر عاشقان کی جانب سے لگائے جانے والے "محبت کے تالوں" نے چند سال پہلے "بون ڈیزار" کے فولادی پُل پر دھاوا بول دیا تھا۔ گزشتہ برس ان تالوں کو ہٹاکر جالیوں کے بدلے شیشے کی باڑھ لگادی گئی تھیں۔ تاہم گشتی اشیاء فروشوں نے ان تالوں کے استعمال کی ترغیب میں بھرپور حصہ ڈالا جس کے نتیجے میں یہ قُفل بندی دیگر پُلوں پر نمودار ہوگئی۔

اسی طرح بلدیہ فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں ایسے بینروں کے لگانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے جن میں ان تالوں کو لگانے کی ممانعت پر زور دیا گیا ہے۔ برونو جولیار کے مطابق ان ہی میں ایک بینر پر تحریر ہے "تالوں کا لگانا ممنوع ہے ، پیرس آپ کا شکر گزار ہے" اور ایک دوسرے بینر پر "اپنی محبت کا اظہار کسی دوسرے طریقے سے کیجیے" تحریر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں