.

امریکی پابندیاں، حزب اللہ سنگین مالیاتی بحران سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغرب اور امریکا کی جانب سے ایران نواز لبنانی شیعہ عسکری گروپ حزب اللہ پر عاید اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں تنظیم کو شدید نوعیت کے مالی بحران کا سامنا ہے۔ جب سے امریکا نے حزب اللہ کے مقربین کے ساتھ بنکوں کے لین دین پرپابندی عاید کی ہےتنظیم کو فنڈز کے حصول میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ امریکی اقتصادی پابندیوں کو بہ ظاہر زیادہ اہمیت نہیں دے رہی ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں سے حزب اللہ کو کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔ حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے بنکوں کے ساتھ لین دین پرپابندی کے قانون سے حزب اللہ کو ایک فی صد بھی نقصان نہیں ہوا ہے۔

تاہم مبصرین اور آزاد ذرائع حزب اللہ کی اس ظاہرہ خوش خیالی کو مسترد کرتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں شدید نوعیت کے مالیاتی بحران کا شکار ہے مگر وہ اسے دنیا سے چھپانے کے لیے کوشاں ہے۔ حزب اللہ کو بیرون اور اندرون ملک بھی سرمایہ کاری میں شدید نوعیت کی مشکلات درپیش ہیں۔ اس وقت حزب اللہ کی آمدن کا ذریعہ صرف ایران ہے۔ اسلحہ کی خریداری، جنگجوؤں کی تنخواہوں کی ادائی اور مقتولین کے ورثاء کی کفالت کی مد میں ایران سے مالی مدد حاصل کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ 80 ہزار افراد کو ماہانہ تنخواہیں ادا کرتی ہے۔ تنظیم کے 100 بڑے معاونین کے نام بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد حزب اللہ کو بیرون ملک سے فنڈز کے حصول میں سخت مشکلات درپیش ہیں۔