.

ایران عرب ملکوں میں القاعدہ جنگجوؤں کا ’اسمگلر‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دہشت گردوں کی پشت پناہی اور دنیا بھر میں ان کی آمد ور فت میں سہولت کاری کے حوالے سے ایرانی سازشوں کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نہ صرف القاعدہ جنگجو کو اپنی سرزمین میں پناہ دینے میں ملوث رہا ہے بلکہ تہران سرکاری القاعدہ، النصرہ محاذ اور دولت اسلامی ’داعش‘ جیسےدہشت گرد گروپوں کے جنگجوؤں کو عرب ملکوں تک رسائی فراہم کرنے میں مدد دیتا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے تخریبی مقاصد کے حصول کے لیے داعش، القاعدہ اور النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں کو عراق، شام، لیبیا اور ترکمانستان بھیجنے میں مدد کی۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق دہشت گردوں کی اسمگلنگ کے حوالے سے تیار کردہ رپورٹ میں شدت پسندوں کی ترجمان ویب سائیٹس اور دیگر مواد سے مدد لی گئی ہے۔ شدت پسندگروپوں کی طرف سے یہ دعوے کے ساتھ یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ ان کے اہم رہ نما اور جنگجو ایران کے ذریعے ان تک پہنچتے رہےہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2010ء میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایران نے القاعدہ کے حوالے سے دہری پالیسی اپنائی۔ ایک طرف جنگجوؤں کی سہولت کاری جاری رکھی اور دوسری جانب بعض جنگجوؤں کو پکڑ کر ان کے ملکوں کے حوالے بھی کیا۔ اس کی سب سے بڑی مثال ابو خفص الموریتانی کی ہے جسے سنہ 2012ء میں موریتانیہ کے حوالے کیا گیا تھا۔