بیلجیئم:اللہ اکبر کا نعرہ اور تیز دھار آلے سے حملہ، دو خواتین پولیس اہلکار زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بیلجیئم میں ایک حملہ آور نے اللہ اکبر کا نعرہ لگانے کے بعد دو خواتین پولیس اہلکاروں کو تیز دھار آلے سے زخمی کردیا ہے۔بعد میں پولیس نے حملہ آور کو گولی مار کر زخمی کردیا ہے اور اس کو گرفتار کر لیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق بیلجیئم کے جنوبی شہر شارلیروئی میں ایک مرکزی پولیس اسٹیشن کے باہر ان دو پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا ہے۔ان میں سے ایک کے چہرے پر گہرا زخم لگا ہے اور اس کو اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔دوسری خاتون کو معمولی زخم آیا ہے۔

بیلجیئم میں 22 مارچ کو برسلز کے ہوائی اڈے اور ایک میٹرو اسٹیشن پر خودکش بم دھماکوں میں 32 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔برسلز میں دہشت گردی کے ان واقعات کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور اس کو چار میں سے تین کی سطح پر رکھا گیا ہے۔اس درجے کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں ممکنہ حملے کا خطرہ موجود ہے۔برسلز میں یورپی یونین کے اداروں اور معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے صدر دفاتر واقع ہیں۔

بیلجیئن حکام نے 30 جولائی کو ایک 33 سالہ شخص نور الدین ایچ پر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے الزام میں فرد جرم عاید کی تھی۔اس پردہشت گردی ، اقدام قتل کی سازش اور ایک دہشت گرد تنظیم کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں فردجرم عاید کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 13 نومبر 2015ء کو بم حملے کرنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق بھی بیلجیئم سے تھا اور انھوں نے اسی ملک میں فرانس میں دہشت گردی کے ان حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

پیرس میں چھے مختلف مقامات پر خودکش بم حملوں اور مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک سو تیس افراد ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔داعش نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ان حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں سے ایک حملہ آور کو ترکی نے شام سے واپسی پر گرفتار کرکے بیلجیئن حکام کے حوالے کیا تھا مگر انھوں نے چند ماہ کے بعد اس کو رہا کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں