.

یمن: حوثیوں اورعلی صالح اتحاد کی انتظامی کونسل کے قیام کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حوثی شیعہ ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت نے ملکی نظم ونسق چلانے کے لیے ایک نئی کونسل کے قیام کا اعلان کیا ہے اور اس میں دونوں گروپوں کو برابر نمائندگی دی گئی ہے۔

حوثیوں کے زیرانتظام سبا نیوز ایجنسی نے ہفتے کے روز ایک فہرست شائع کی ہے۔اس کے مطابق انتظامی کونسل کے کل ارکان کی تعداد دس ہے۔حوثی ملیشیا اور علی صالح کی جماعت کے پانچ پانچ ارکان اس کونسل میں شامل کیے گئے ہیں۔

حوثیوں کے سیاسی ونگ انصاراللہ کے سربراہ صلاح الصمد ،علی صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے نائب سربراہ صادق ابو راس بھی اس کونسل کا حصہ ہیں۔

حوثی ملیشیا اور علی صالح کی باقیات نے یمن میں اپنے زیر قبضہ علاقوں کا کنٹرول چلانے کےلیے 28 جولائی کو ایک انتظامی کونسل کے قیام کا اعلان کیا تھا۔یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے اس اعلان کو مسترد کردیا تھا اور اس کی مذمت کی تھی۔

حوثیوں اور علی صالح کی جانب سے انتظامی کونسل کے قیام کا اعلان کویت میں جاری امن مذاکرات کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے کہا ہے کہ حوثیوں کا اعلان مذاکرات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد 2216 کی بھی خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایلچی آج کویت میں حوثیوں اور یمنی حکومت کے وفد کے درمیان مذاکرات کو معطل کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں مذاکرات کے نئے دور کا اعلان کریں گے۔

واضح رہے کہ یمنی حکومت اور اقوام متحدہ کے ایلچی کے درمیان عید الفطر کے بعد مذاکرات کے نئے دور کے حوالے سے یہ طے پایا تھا کہ کویت میں یہ مذاکرات دو ہفتے سے زیادہ دیر جاری نہیں رہیں گے ،اس دوران متعلقہ امور پر ہی بات چیت کی جائے گی اور ان کے علاوہ کسی اور ایشو پر کوئی بات نہیں کی جائے گی''۔

یمنی حکومت کے سربراہ اور وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی اورعالمی ایلچی کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے صنعا اور دوسرے علاقوں سے انخلاء ،ان کے ہتھیار پھینکنے ،ریاستی اداروں کی واپسی ،قیدیوں کی رہائی اور شہروں کے محاصرے کے خاتمے پر ہی بات چیت کی گئِی تھی

کویت میں حوثی باغیوں اور صدر منصور ہادی کی حکومت کے درمیان اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی ثالثی اور نگرانی میں یہ امن مذاکرات 21 اپریل کو شروع ہوئے تھے لیکن ان میں بحران کے پائیدار حل کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی تھی اور صرف فریقین کے درمیان قیدیوں کا ہی تبادلہ ہوا تھا۔

ان مذاکرات میں یمنی حکومت کا وفد گذشتہ سال اپریل میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔اس میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سے کہا گیا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دے اور دارالحکومت صنعا سمیت اپنے زیر قبضہ تمام علاقوں کو خالی کردے۔حوثی باغی اس کے جواب میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی جگہ ایک نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔