بیلجیئم : خنجر سے حملہ کرنے والا الجزائری دہشت گرد نہیں،جرائم پیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے ہفتے کے روز خنجر کے وار کرکے دو خاتون پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے والے حملہ آور کو شناخت کر لیا ہے۔وہ ایک تینتیس سالہ الجزائری تھا اور پولیس اس کے مجرمانہ ریکارڈ سے آگاہ تھی۔پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ یہ حملہ دہشت گردی کی کارروائی نہیں تھا۔

اس حملہ آور نے جنوبی شہر شارلیروئی میں پولیس ہیڈ کوارٹرز کے باہر اللہ اکبر کا نعرہ لگانے کے بعد دو خواتین پولیس اہلکاروں کو بڑے پھل والے خنجر سے وار کر کے زخمی کردیا تھا۔بعد میں ایک اور پولیس اہلکار نے حملہ آور کو گولی مار کر زخمی کردیا تھا۔اس کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا تھا۔حملہ آور کے اللہ اکبر کا نعرہ لگانے کی وجہ سے ابتدائی طور پر واقعے کو دہشت گردی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا تھا۔

وفاقی پراسیکیوٹرز کے دفتر نے بتایا ہے کہ حملہ آور 2012ء سے بیلجیئم میں رہ رہا تھا۔دفتر نے اس کو صرف کے بی کے ابتدائی حروف سے شناخت کیا ہے۔اس دفتر نے مزید کہا ہے کہ چونکہ ایسے اشارے ملے تھے کہ حملے کے پس پردہ دہشت گردی کا محرک کارفرما ہوسکتا ہے،اس لیے وفاقی پراسیکیوٹرز دفتر نے شارلیروئی کے ضلعی پراسیکیوٹرز دفتر سے اس واقعے کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

بیلجیئن وزیراعظم چارلس میشیل کا کہنا ہے کہ پراسیکیوٹرز اس واقعے کی دہشت گردی کے اقدام قتل کے ممکنہ کیس کے طور پر تحقیقات کررہے ہیں۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں خوف وہراس اور افراتفری سے بچنا ہوگا،دہشت زدہ نہیں ہونا۔یہ ایک جال ہے جو ہمارے لیے پھینکا گیا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں