لبنانی دستے نے اسرائیلی اولمپیئنز کو بس میں سوار ہونے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دو متحارب ملکوں کے درمیان سیاسی میدان میں محاذ آرائی کی صدائے بازگشت کھیلوں کے عالمی مقابلوں اور خاص طور اولمپکس کے موقع پر بھی ہر مرتبہ سنائی دیتی ہے۔برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں جاری اولمپک مقابلوں کے دوران دو حریف ممالک لبنان اور اسرائیل کے ایتھلیٹس کے درمیان آغاز ہی میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے مگر بات جسمانی زور آزمائی تک ہی محدود رہی ہے اور صورت حال زیادہ کشیدہ نہیں ہوئی ہے۔

ہوا یہ کہ لبنانی دستے نے مارکانا اسٹیڈیم میں ریو اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں جانے کے لیے اپنے ساتھ بس میں اسرائیلی دستے کو سوار ہونے سے زبردستی روک دیا ہے۔لبنانی ایتھلیٹس پہلے سے اس بس میں سوار تھے۔جب اسرائیلی اس پر سوار ہونے کے لیے پہنچے تو لبنانی دستے کے ذمے دار نے بس ڈرائیور سے دروازہ بند کرنے کے لیے کہہ دیا۔

لبنانی دستے کے سربراہ سالم حاج نیکولا نے لبنانی روزنامے النہار کو بتایا ہے کہ ''میں نے بس ڈرائیور کو دروازہ بند کرنے کے لیے کہا تو اسرائیلی ٹیم کے ساتھ موجود گائیڈ نے اس کو ایسا کرنے سے منع کر دیا۔اس کے بعد میں دروازے میں کھڑا ہوگیا اور اسرائیلی ٹیم کو بس میں داخل ہونے سے روک دیا لیکن ان میں سے بعض نے زور زبردستی کر کے اندر داخل ہونے اور دھینگا مشتی کی کوشش کی''۔

اسرائیلی وفد نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ ان کے خلاف ایک معاندانہ فعل تھا۔تاہم اس نے اولمپک کمیٹی کے منتظمین کو اس صورت حال کا ذمے دار ٹھہرایا ہے جنھوں نے ان دونوں ملکوں کے ایتھلیٹس کو ایک ہی بس میں سوار کرانے کی کوشش کی تھی۔

اسرائیلی دستے کے سربراہ گیلی لسٹنگ نے ایک بیان کہا ہے کہ ''منتظمہ کمیٹی نے لبنانی وفد کے سربراہ کا سخت رویہ دیکھنے کے بعد فوری طور پر ہمارے لیے دوسری بس کا بندوبست کردیا تھا''۔

واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان عشروں سے کشیدگی چلی آرہی ہے اور ان کے سرحدی علاقے میں آئے دن اسرائیلی فوج اور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔اسرائیلی فوج نے جون 2006ء میں لبنان پر حملہ کردیا تھا اور اس کے لڑاکا طیاروں نے حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے نام پر بیروت اور دوسرے شہروں پر تباہ کن بمباری کی تھی اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی جس کے نتیجے میں بارہ سو سے زیادہ لبنانی شہری مارے گئے تھے جبکہ اس جنگ میں ایک سو ساٹھ اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ان میں زیادہ تر اسرائیلی فوجی تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں