.

ترک لڑاکا طیاروں کے حملوں میں 13 کرد باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنوب مشرق میں واقع کرد اکثریتی علاقے میں مسلح افواج کے فضائی حملوں میں تیرہ کرد جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق ترک فضائیہ کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے صوبہ سیرت کے دیہی علاقے میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد بم باری کی ہے۔ان کے بارے میں یہ پتا چلا تھا کہ وہ وہاں امن دشمن سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

سیرت ہی میں پی کے کے کے جنگجوؤں کے ایک حملے میں ایک فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔صوبے کے ضلع ایرح میں اتوار کی صبح کرد جنگجوؤں اور فوجیوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تھی اور اس میں ایک سارجنٹ مارا گیا ہے۔

ادھر ایک اور جنوب مشرقی صوبے حکاری میں ایک ٹرک ڈرائیور سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں ہلاک ہوگیا ہے۔اناطولو نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ دیسی ساختہ بم پی کے کے کے جنگجوؤں نے نصب کیا تھا۔سکیورٹی فورسز نے اس واقعے کے بعد علاقے میں مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔

ترک سکیورٹی فورسز اور کرد باغیوں کے درمیان ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں جولائی 2015ء سے لڑائی جاری ہے اور یہ لڑائی حکومت اور کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے درمیان ڈھائی سالہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد چھڑی تھی۔اس دوران ترک فوج نے قریباً چھے ہزار کرد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ ترکی کے کرد اکثریتی علاقوں میں کرد باغیوں کے حملوں اور جھڑپوں میں چھے سو سے زیادہ فوجی ،پولیس افسر اور دیہی محافظ ہلاک ہوچکے ہیں۔

ترک فوج عراق کے شمال میں واقع قندیل کے پہاڑی سلسلے میں بھی اس کالعدم گروپ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہی ہے۔کرد باغی شمالی عراق سے سرحد پار ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔واضح رہے کہ ترکی کے علاوہ امریکا اور یورپی یونین نے بھی پی کے کے کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔