.

داعش خادمائیں بھرتی کر کے کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست کویت میں حال ہی میں پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی ‘داعشی خادمہ’ کے واقعے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ دولت اسلامی ‘داعش’ کہلوانے والی تنظیم خادماؤں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرنے کے لیے کیوں کوشاں ہے کیونکہ کویت میں پکڑی جانے والی فلپائنی داعشی خاتون لینافی ازویلو واحد خادمہ نہیں جو دہشت گردی کے شبے میں گرفتار ہوئی ہے بلکہ اکتوبر 2015ء کو سعودی عرب کی پولیس نے بھی فلپائن ہی سے تعلق رکھنے والی لیڈی جوی نامی ایک خادمہ کو گرفتار کیا جس نے اعتراف کیا تھا کہ وہ داعش کے لیے بارودی جیکٹ سلائی کرتی رہی ہے۔

خادماؤں کی داعش میں بھرتی کے پس پردہ مقاصد کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ شدت پسند گروپ کا یہ ایک مکروہ حربہ ہے جس کا مقصد گھروں میں کام کرنے والی عورتوں کو اپنے چنگل میں پھنسا کر انہیں دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔

دہشت گردی کے امور کے تجزیہ نگار حمود الزیادی کا کہنا ہے کہ داعش خادماؤں کے سماجی، معاشی اور قانونی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اپنی صفوں میں بھرتی کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ گھریلو خادماؤں پر چونکہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کا شبہ کم کیا جاتا ہے اس لیے داعش ان کی مدد سے کسی بھی جگہ دہشت گردی کی کارروائی کر سکتی ہے۔ اگرچہ سعودی عرب اور کویت میں دو داعشی خواتین کی گرفتاری نے گھروں میں کام کاج کے لیے ملازمت پر رکھی گئی خواتین کے حوالے سے شکوک وشبہات بڑھنے لگے ہیں اور لوگ زیادہ محتاط ہوگئے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ چونکہ گھریلو خادماؤں کے دہشت گرد تنظیم میں شمولیت کے دونوں کیسز چونکہ فلپائنی خواتین کے ہیں اس لیے فلپائنی خادماؤں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گھریلو ملازم خواتین داعش کو لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ مخصوص اہداف پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں براہ راست بھی حصہ لے سکتی ہیں۔ سعودی عرب میں پکڑی جانے والی داعشی خادمہ نے یہ اعتراف کیا تھا کہ وہ تنظیم کے لیے خود کش حملوں کے لیے استعمال ہونے والی جیکٹوں کی سلائی کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش گھریلو ملازم خواتین کو اس لیے بھی بھرتی کرنا چاہتی ہے کیونکہ خادمائیں جلد ہی عام لوگوں میں گھل مل جاتی ہیں۔ اس لیے وہ کسی بھی ہدف تک با آسانی پہنچ سکتی ہیں۔ دہشت گردوں کو پہنچانے میں مدد کرسکتی ہیں یا دھماکہ خیز مواد کسی بھی ہدف تک پہنچا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ داعش گھریلو خادماؤں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرنے کے لیے کوشاں ہے۔