.

محجب امریکی نابینا شمشیر زن ‘اولمپک’ مقابلے میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برازیل کی میزبانی میں رواں سال کے موسم گرما کے بین الاقوامی اولمپک کھیلوں کے مقابلوں میں جہاں بھانت بھانت کے کھلاڑی اور ٹیمیں ‘ریو دی جنیرو’ میں اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی ہیں وہیں ان میں امریکا سے تعلق رکھنے والی محجب دوشیزہ شمشیر زنی کے مقابلے کے لیے مقابلے میں شریک ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق افریقی نژاد مسلمان امریکی دوشیزہ ابتھاج محمد نابینا ٹیم میں شامل ہے اور وہ حجاب اوڑھ کر کھیل کا مظاہرہ کرے گی۔

سیاہ فام امریکی کھلاڑی سنہ 2014ء میں روسی شہر قازان میں ہونے والے شمشیر زنی کے مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد عالمی مقابلوں میں کانسی کے چار تمغے بھی جیت چکی ہے۔ ابتھاج محمد پہلی مسلمان محجب دوشیزہ ہیں 2016ء کے ریو د جنیرو میں ہونے والے مقابلوں میں شریک ہیں۔

ابتھاج محمد کے مداحوں میں امریکی صدر باراک اوباما اور خاتون اول میشل سمیت کئی اہم شخصیات ہیں۔ صدر اوباما اور میشل نے ابتھاج محمد کی تعریف کرتے ہوئے اس کی اولمپک گیموں میں شرکت کو امریکا میں مختلف ثقافتوں اور ادیان کے تنوع کی علامت قرار دیا ہے۔

تیس سال کے عمر کی امریکی کھلاڑی نے اخبار‘نیویارک ٹائمز’ کو بتایا کہ وہ کھلاڑیوں کے لیے تیار کردہ ماسک اپنے حجاب کے نیچے پہنے گی۔ اس کا ماننا ہے کہ امریکا میں اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

قبل ازیں ‘ڈیلی بیسٹ’ کو دیے گئے انٹرویو میں اس نے کہا تھا کہ امریکا میں پیش آنے والے بعض پرتشدد واقعات اور اسلام فوبیا کے بڑھتے رحجانات کے باعث وہ خود کو غیرمحفوظ سمجھتی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ ‘امریکا ہی میرا وطن ہے مگر امریکا اس وقت نازک دور سے گذر رہا ہے’۔

جب اسے ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ ‘ وہ کون ہے، میں اسے نہیں جانتی اور نہ ہی میں نے اس کے بارے میں کبھی سنا ہے’۔

نیویارکر میگزین سے بات کرتےہوئے ابتھاج محمد نے کا تھا کہ وہ کسی کے لیے نمونہ نہیں ہے۔ جب میں مقامی سطح پر کھیل کے مقابلوں میں حصہ لیتی ہوں تو میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرتی ہوں۔ لوگ میرے بارے میں عجیب وغریب تبصرے کرتے ہیں۔ میرے سیاہ رنگ اور مسلمان ہونے کا مذاق اڑایا جاتا ہے جو میرے لیے بڑے صدمے کا باعث ہے۔