.

انقلاب کے سامنے مغرب نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا : ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ ماہ حکومت کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے حوالے سے مغربی دنیا بالخصوص یورپ کے موقف پر ایک مرتبہ پھر اپنی ناپسندیدگی اور عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

فرانسسیسی اخبار " لے موند" سے گفتگومیں ایردوآن نے یورپی ممالک اور امریکا کو مورود الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ " میری خواہش تھی کہ کاش مغرب انقلاب کے دوران مختلف موقف اپناتا۔ جب توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی میگزین "چارلی ایبڈو" پر حملہ ہوا تھا تو پوری دنیا نے فرانس کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ، ہمارے سفیر نے بھی یک جہتی ریلی میں شرکت کی لیکن جہاں تک فوجی بغاوت کا تعلق ہے تو مجھے بعض سربراہان مملکت کی جانب سے ٹیلی فونک کالوں اور بعض ناکافی "فرسودہ" بیانات کے سوا کچھ موصول نہیں ہوا"۔

یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں ایردوآن نے باور کرایا کہ " اگر ویزے کے خاتمے کی شرط کو یقینی نہ بنایا گیا تو یورپی تنظیم کے ساتھ مہاجرین سے متعلق معاہدہ ہر گز ممکن نہیں ہوگا "۔

یاد رہے کہ ترک صدر نے اتوار کے روز اپنی حمایت اور جمہوریت کے دفاع کے لیے جمع ہونے والے لاکھوں شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ " اگر عوام سزائے موت کا اجراء چاہتے ہیں تو سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ ان کے مطالبے کو تسلیم کریں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "زیادہ تر ممالک میں سزائے موت پر عمل درامد کیا جاتا ہے"۔

ایردوآن نے جرمنی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس نے رواں ماہ کے آغاز میں ترک صدر کو وڈیو لنک کے ذریعے کولون شہر میں ایک ریلی میں شریک اپنے حامیوں سے خطاب سے روک دیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ "کہاں ہے جمہوریت ؟"۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ "دہشت گردی کا پیٹ بھرتے ہیں اور یہ خود ان ہی پر لوٹ جائے گی"۔ انہوں نے بتایا کہ جرمنی نے کرد شدت پسندوں کو ٹیلی وژن نشریات کی اجازت دے دی۔

یاد رہے کہ متعدد یورپی ذمہ داران بالخصوص جرمن وزارت خارجہ بارہا یہ باور کرا چکے ہیں کہ یورپی یونین میں ایسے کسی ملک کے لیے جگہ نہیں جو سزائے موت پر عمل درامد کرتا ہو۔