.

"بکرے" کے عوض بچی کی شادی پر افغان باپ کی پٹائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کے مطابق ایک افغان شہری نے "بکرے" اور غذائی اشیاء کے بدلے اپنی 6 سالہ بیٹی کو ایک 55 سالہ شخص سے شادی پر مجبور کر دیا۔ ایک قریبی عزیز کی جانب سے آگاہ کیے جانے پر دونوں مردوں کو پکڑ لیا گیا۔

دولہا سید عبدالکریم نے بچی "غریب گُل" کے باپ کو ایک ماہ کا راشن فراہم کیا تھا جس میں "چاول ، چائے ، شکر اور کھانا پکانے کا تیل" شامل تھا۔ دولہا نے اس بات پر قسم اٹھائی تھی کہ وہ لڑکی کی عمر 18 برس ہونے تک اس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم نہیں کرے گا۔

رخصتی کے بعد عبدالکریم بچی کو "غور" صوبے کے شہر "فیروز کوہ" میں اپنے ایک عزیز کے گھر لے گیا اور اسے اپنی بیٹی ظاہر کیا۔ تاہم صاحب خانہ نے بچی کو "رات" میں عبدالکریم کے ساتھ دیکھ لیا جس پر تکرار کے بعد عبدالکریم نے اقرار کر لیا کہ یہ بچی اس کی بیوی ہے۔

صاحب خانہ نے اپنے ایک دوست کو اس پورے معاملے سے آگاہ کر دیا جس نے غور میں خواتین کے حقوق کے دفتر کو اطلاع دے دی۔ مذکورہ دفتر کا کہنا ہے کہ وہ بچی کو طلاق دلوانے اور اس کے باپ کے پدری حقوق ختم کروانے کی کوشش کرے گا۔ بچی اس وقت اپنی ماں کے ساتھ رہ رہی ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" پر جاری وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دولہا عبدالکریم کے پکڑے جانے کے بعد چند خواتین غریب گُل کے باپ کو مار رہی ہیں۔

افغانستان کے قانون کے مطابق لڑکیوں کے لیے شادی کی عمر 16 برس اور لڑکوں کے لیے 18 برس ہے، تاہم اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی 46.5% شادیوں میں لڑکی کی عمر 18 برس سے کم ہوتی ہے۔