.

ترکی :فتح اللہ گولن سے تعلق کے شُبے میں 10 غیرملکی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکام نے امریکا میں مقیم عالم فتح اللہ گولن سے تعلق کے شُبے میں دس غیرملکیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان قرطلمس نے انقرہ میں کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان میں سے چار افراد کو مقدمے کی سماعت تک باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ایک پانچویں غیرملکی کو رہا کردیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک مشتبہ شخص کو ہفتے کے روز شام سے غیر قانونی طور پر ترکی میں داخلے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ایک مشتبہ غیر ملکی مفرور ہے۔

انھوں نے گرفتار کیے گئے غیرملکیوں کی قومیت کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ناکام فوجی بغاوت کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع ہونے کے بعد گرفتار کیے جانے والے غیرملکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ترک حکومت نے 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے فتح اللہ گولن کی خدمت تحریک سے وابستہ افراد ،سرکاری ملازمین اور فوجیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کررکھا ہے اور اب تک قریباً اٹھارہ ہزار افراد کو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں شریک ہونے کے الزام میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ان میں زیادہ تر فوجی ہیں۔

امریکی ریاست پنسلوینیا میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے فتح اللہ گولن صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف ناکام فوجی بغاوت میں کسی قسم کے کردار کی تردید کرچکے ہیں۔ترک حکومت امریکا سے فتح اللہ گولن کو حوالے کرنے کا بار بار مطالبہ کررہی ہے جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ٹھوس شواہد ملنے کی صورت ہی میں بے دخلی کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

نائب وزیراعظم قرطلمس کا کہنا تھا کہ ترک حکومت اس بات میں یقین نہیں رکھتی ہے کہ گولن تحریک ایک اور فوجی بغاوت برپا کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے لیکن انھوں نے گولن کے پیروکاروں کی جانب سے سائبر حملوں سمیت تخریبی کارروائیوں کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تنظیم ترکی کو نقصان پہنچانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ کابینہ نے تمام سرکاری ملازمین کی چھٹیوں پرعاید پابندی اٹھالی ہے۔ترک حکومت نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد تمام سرکاری ملازمین کی تاحکم ثانی چھٹیاں منسوخ کردی تھی اور چھٹیوں پر بیرون ملک گئے ہوئے ملازمین کو بھی ڈیوٹی پر واپس بُلا لیا تھا۔