تیونس کو سنگین اقتصادی بحران کا سامنا

'خزانہ خالی، ملازمین کی تنخواہوں کی ادائی مشکل ہوگئی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افریقی ملک تیونس میں جہاں ایک طرف حکومت کو سیاسی استحکام کے لیے مشکلات کا سامنا ہے وہیں ملک بدترین معاشی بحران میں گھرتا جا رہا ہے۔ اگرچہ تیونسی حکومت کی طرف سے کھل کر معاشی بحران کی تردید نہیں کی جا رہی ہے مگر معیشت کے ماہرین اور خود حکومتی عہدیدار بار بار یہ اشارے دے رہے ہیں کہ خزانہ خالی ہے اور خدشہ ہے کہ حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا بھی اہتمام نہ کرسکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تیونسی حکومتی عہدیدار کئی ماہ سے ملک میں اقتصادی بحران کی طرف انتباہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ حکومتی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے اس تاثر کی تردید کی کہ خزانہ خالی ہے اور حکومت تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کررہی ہے تاہم ذرائع نے مجموعی طور پر اقتصادی بحران کی موجودگی کی نفی بھی نہیں کی ہے۔

مقامی ریڈیو "ماد" سے بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار مراد الحطاب نے کہا کہ تیونس کو تاریخ کے بدترین معاشی بحران اورمالیاتی خسارے کا سامنا ہے۔ قومی خزانے میں موجود رقم 71 کروڑ 20 لاکھ دینار پر آگئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

حال ہی میں تیونس کے مرکزی بنک کے گورنر الشاذلی العیاری نے ایک غیرملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنہ 1017ء کے مالی سال کے بجٹ کے لیے ان کے پاس خزانے میں رقم ناکافی ہے۔ خزانے میں موجود رقم موجودہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیےکم پڑ رہے ہیں۔خدشہ ہے کہ اگر حکومت کو مزید قرض نہ ملا تو ملازمین کو تنخواہوں کی ادائی میں مشکلات پیش آئیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 6 لاکھ 70 ہزار سرکاری ملازمین ہیں جن کی ماہانہ اجرت ایک ارب دینار ہے جب کہ بالواسطہ اور براہ راست طورپر موصول ہونے والے ٹیکسوں کی رقم اتنی نہیں کہ ان سے ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جاسکیں۔

ایک سوال کے جواب میں الشاذلی العیاری کا کہنا تھا کہ سیاحت اور معدنیات آمدن کا اہم ترین ذریعہ ہیں مگر ان شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس وقت یہ شعبے بھی 4.5 ملین دینار خسارے کا سامنا کر رہے ہیں۔

ادھر قائم مقام وزیراعظم الحبیب الصید نے کل سوموار کو ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دروان ملک کو درپیش مالیاتی بحران پر غور کیا۔ اس موقع پر وزیرخزانہ سلیم شاکر بھی موجود تھے جنہوں نے وزیراعظم کو موجودہ مالیاتی بحران اور بجٹ سنہ 2017ء کے حوالے سے قانونی امور مکمل کرنے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں