پوتین اور ایردوآن کا دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے اقدامات سے اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ دونوں ممالک اپنے خراب دوطرفہ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرسکتے ہیں اور انھیں قریبی دوستی میں بدل سکتے ہیں۔

صدر ایردوآن نے منگل کے روز سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں صدر پوتین کو ''پیارا دوست'' کہہ کر پکارا اور کہا ہے کہ ترکی روس کے ساتھ قدرتی گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے اور ترکی روس کی مدد سے اپنا پہلا جوہری پاور پلانٹ بھی تعمیر کرنے کا خواہاں ہے۔

اس موقع پر صدر پوتین نے کہا کہ ترکی میں روسی سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جلد بحال ہوجائے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ اور صدر ایردوآن شام میں جاری بحران کے بارے میں بعد میں نشست کریں گے اور اس میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ فوجی عہدے دار اور انٹیلی جنس حکام بھی شریک ہوں گے تاکہ بحران کا کوئی مشترکہ حل تلاش کیا جاسکے۔

ملاقات کے دوران دونوں صدور کوئی زیادہ پُرجوش نظر نہیں آئے اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں انھوں نے محتاط روی کا مظاہرہ کیا۔صدر ایردوآن نے اپنے ابتدائی کلمات میں روسی صدر کا دو مرتبہ دورے کی دعوت دینے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون سے پورے خطے کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔

انھوں نے صدر پوتین سے اس ملاقات سے قبل ان کا ناکام فوجی بغاوت کے بعد فون کال کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے ہمارے عوام کو بہت زیادہ خوشی ہوئی تھی۔

اس کے جواب میں روسی صدر نے کہا: ''میں جانتا ہوں کہ میں ہی پہلا شخص تھا جس نے آپ کو فون کیا تھا اور بحران کے حوالےسے اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔میں ایک مرتبہ پھر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ہمارا اصولی موقف تھا۔ہم کسی بھی غیر آئینی اقدام کے خلاف ہیں''۔

ترک صدر نے دورے سے قبل تاس نیوز ایجنسی کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ روس کے ساتھ بالکل نئے سرے سے تعلقات استوار کرنا اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا دوبارہ آغاز چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ''روس ،ترکی تعلقات کا ایک نیا صفحہ کھولا جائے گا۔اس نئے صفحے میں فوجی ،اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا فروغ شامل ہوگا''۔

واضح رہے کہ نومبر 2015ء میں ترکی کے ایف سولہ لڑاکا جیٹ نے شام کی سرحد کے نزدیک ایک روسی طیارے کو مار گرایا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں میں سخت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔اس واقعے کے بعد روس نے ترکی پر اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جن کے نتیجے میں ترکی آنے والے روسی سیاحوں کی تعداد میں 2016ء کی پہلی ششماہی کے دوران 87 فی صد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

دونوں صدور کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ترکی کے امریکا اور یورپی یونین کے ساتھ 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں اور صدر رجب طیب ایردوآن امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے خلاف کم وبیش روزانہ ہی تندوتیز بیانات جاری کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ترک جمہوریت کے خلاف اس شب خون کے بعد سے کسی مغربی لیڈر نے ترکی کا دورہ کیا ہے اور نہ فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کی کارروائی میں جانیں قربان کرنے والوں کے خاندانوں سے کوئی افسوس کا اظہارکرنے یا انھیں پُرسا دینے آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں