ترکی قابل قدر اتحادی اور اہم حصے دار ہے: نیٹو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو نے واضح کیا ہے کہ ترکی کی فوجی اتحاد کی رُکنیت کا سوال زیر بحث نہیں ہے۔وہ ایک اہم رکن ہے اور بڑا فوجی حصے دار ہے۔

نیٹو کے ترجمان کی جانب سے یہ بیان ترک میڈیا میں 15 جولائی کو صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف ناکامی فوجی بغاوت کے تناظر میں قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس کے ردعمل میں جاری کیا ہے۔ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نیٹو اور امریکا کی انٹیلی جنس بھی ممکنہ طور پر اس ناکام فوجی بغاوت میں ملوّث تھی۔

اخبار خبر ترک کے ایک کالم نویس نے لکھا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کی سازش کے نیٹو کے ایک خفیہ نیٹ ورک نے تانے بانے بُنے تھے لیکن نیٹو نے کہا ہے کہ اس کا موقف بالکل واضح ہے اور وہ انقرہ کی حمایت کرتا ہے۔

نیٹو کی خاتون ترجمان اوآنا لنگیسکو نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ترکی ایک قابل قدر اتحادی ہے اور اس نے نیٹو کی مشترکہ کاوشوں میں نمایاں حصہ ڈالا ہے''۔انھوں نے بتایا ہے کہ اسٹولٹنبرگ نے فوجی بغاوت کی ناکامی کے فوری بعد صدر ایردوآن کو ٹیلی فون کیا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ تنظیم کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے ناکام فوجی بغاوت کی شدید مذمت کی تھی اور ترکی کے داخلی اداروں کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا تھا۔انھوں نے ترکی کی منتخب حکومت کی حمایت کا اظہار کیا اور ترک عوام کے حوصلے کو سراہا تھا۔اس کے علاوہ انھوں نے فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کی کارروائی کے دوران جانیں قربان کرنے والوں کے لواحقین سے بھی تعزیت کا اظہار کیا تھا۔

نیٹو کی جانب سے یہ بیان ترک صدر ایردوآن کے دورہ روس کے ایک روز بعد جاری کیا گیا ہے۔انھوں نے روس کے ساتھ اختلافات کے خاتمے اور ازسرنو تعلقات کی بحالی کے لیے یہ دورہ کیا تھا۔اس کے حوالے سے ایک یہ قیاس آرائی کی گئی ہے کہ انقرہ کے مغرب سے قریبی تعلقات خطرے میں ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی امریکا کی قیادت میں نیٹو اتحاد میں دوسری بڑی فوجی قوت ہے اور مغرب کا ایک اہم اتحادی ملک ہے۔اس اتحاد کو اس وقت مشرق وسطیٰ میں تنازعات اور بحرانوں کا چیلنج درپیش ہے۔

صدر رجب طیب ایردوآن نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی کی حمایت کا اظہار نہ کرنے پر امریکا اور یورپی یونین پر کڑی تنقید کی تھی۔انھوں نے مغربی لیڈروں کے ان انتباہوں کو بھی نظرانداز کردیا تھا جن میں انھوں نے فوجی بغاوت میں شریک ہونے کے الزام میں سرکاری ملازمین اور فوجیوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کو پامال نہ کرنے پر زور دیا تھا۔

اسی سے متعلق ایک اور خبر ۔ترکی نے یورپی یونین کو ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ وہ فوجی بغاوت کے ردعمل میں سنگین غلطیوں کی مرتکب ہورہی ہے اور ترکوں کی حمایت سے محروم ہورہی ہے۔

ترک وزیرخارجہ مولود کاوس اوغلو نے سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''بدقسمتی سے یورپی یونین بعض سنگین غلطیوں کی مرتکب ہورہی ہے۔فوجی بغاوت کے بعد اہلِ مغرب امتحان میں ناکام رہے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''قریباً پچاس فی صد ترک عوام یورپی یونین کی رکنیت کے حامی رہے ہیں۔اب میرے اندازے کے مطابق یہ حمایت بیس فی صد تک رہ گئی ہے''۔

انقرہ کا یہ موقف رہا ہے کہ امریکا اور یورپ نے 15 جولائی کی فوجی بغاوت کے بعد کریک ڈاؤن کے خلاف غیر ضروری تشویش کا اظہار کیا ہے۔باغی فوجیوں کے حملوں ،فائرنگ اور گولہ باری سے 240 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ان میں زیادہ تر عام شہری تھی۔ترک حکومت نے اس کے بعد فوج ،عدلیہ ،سول سروس اور محکمہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے ساٹھ ہزار سے زیادہ ملازمین کو گرفتار ، برطرف یا معطل کردیا ہے یا ان کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہے۔

یادرہے کہ سنہ 2005ء کے بعد ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت کے لیے مذاکرات میں بہت تھوڑی پیش رفت ہوئی ہے۔تنظیم کے بعض رکن ممالک کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ترکی مستقبل قریب میں رکن بنتا نظرنہیں آتا ہے جبکہ ترک بھی اس کی رکنیت کے لیے کوئی زیادہ پُرجوش نظر نہیں آتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں