پھانسی، قید، ریاستی تعاقب، ایرانی سائنسدانوں کا مقدر!

شک کی بیماری کا شکار ایرانی رجیم کا اگلا شکار کون ہوگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران میں ایٹمی سائنسدان شہرام امیری کو پھانسی دیے جانے کے واقعے نے تہران رجیم کی انتقامی سیاست کو دنیا کے سامنے مزید بے نقاب کردیا ہے۔ اس اقدام سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے مخصوص ایجنڈے کی معمولی سے مخالفت کرنے والوں کو موت سے کم سزا پر راضی نہیں۔ کسی جوہری سائنسدان کی خدمات کا اعتراف توالگ اگر کوئی سماجی و انسانی علوم، نظریاتی ویژن یا فکری اختلاف کی معمولی سے جسارت بھی کرڈالے تو اسے ریاست اور ملک دشمن قرار دے کراسے موت کےگھاٹ اتارا جانا ایران میں معمول کی بات بن چکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تہران سرکار نے جوہری سائنسدان شہرام امیری کی پھانسی کو جواز کالبادہ پہنانے کے لیے مقتول پرامریکا کے لیے جاسوسی کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ امیری نے امریکیوں کو خفیہ راز فروخت کیے تھے۔ ایرانی جوڈیشل اتھارٹی کےترجمان نےالزام عاید کیا ہے کہ شہرام امیری ایران نہیں بلکہ امریکا کا ’بندہ‘ تھا اور اس نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں خفیہ معلومات واشنگٹن کو فراہم کی تھیں۔

ایرانی نیشنل مزاحمت کونسل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہرام امیری کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے براہ راست حکم پر پھانسی دی گئی ہے۔

ایران کی قومی مزاحمتی کونسل جو تہران کے جوہری پروگرام کے خفیہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں سرگرم رہی ہے کا کہنا ہے کہ شہرام امیری کو پھانسی دینے کا مقصد سائنسدانوں بالخصوص جوہری شعبے سے وابستہ ماہرین کو خوف زدہ کرنا ہے تاکہ کوئی جوہری سائنسدان بیرون ملک سفر کی جسارت نہ کرے۔ اگر کوئی بیرون ملک جائے بھی تو وہ شہرام امیری کا انجام یاد رکھے۔ کیونکہ شہرام امیری کو بھی بیرون ملک جانے اور امریکا سے واپس آنے پر دس سال قید اور پندرہ سال جلا وطنی کی سزا سنائی گئی تھی مگر تہران حکومت نے اس سزا کو ناکافی سمجھا اور دیگر سائنسدانوں کے لیے نشان بناتے ہوئے اسےپھانسی پر لٹکا دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت ماضی میں بھی سائنسدانوں کوخفیہ طریقے سے ٹھکانے لگاتی رہی ہے مگر اس کا الزام ایرانی اپوزیشن اور مزاحمتی کونسل پر عاید کیا جاتا تھا مگر اب کی بار تہران نے کھل کر شہرام امیری کی پھانسی کا اعتراف کیا ہے۔

خیال رہے کہ شہرام امیری سنہ 2009ء میں حج پر گئے جہاں سے وہ اچانک لاپتا ہوگئے تھے۔ کچھ عرصے بعد ان کی امریکا میں موجودگی کا علم ہوا اور پتا چلا کہ انہوں نے امریکا میں پناہ کی درخواست کی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق شہرام امیری کی امریکا کی پناہ کی درخواست کے بعد تہران حکام نے امیری کی اہلیہ اور بیٹی کو گرفتار کرلیا اور دھمکی دی تھی کہ اگر امیری رضاکارانہ طور پر امریکا سے واپس نہیں آتا تو اس کی بیٹی اور بیوی کو قتل کردیا جائے گا۔

امریکا سے واپسی کے بعد شہرام امیری کا استقبال کیا گیا مگر جلد ہی اس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی شروع کردی گئی تھی۔ ایران کی ایک انقلاب عدالت نے شہرام امیری پر جاسوسی کے الزام میں 10 سال قید اور پانچ تک جلا وطنی کی سزا کا حکم دیا تھا مگر حال ہی میں اچانک اسے پھانسی دے دی گئی ہے۔

شہرام امیری واحد ایرانی سائنسدان نہیں ہیں جنہیں متنازع جوہری پروگرام کی بات امریکی خفیہ اداروں کو معلومات فراہم کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔ ایرانی حکومت ایسے کئی دوسرے سائنسدانوں اور جوہری ماہرین کو ہٹ لسٹ میں شامل کیے ہوئے ہے جن پرشبہ ہے کہ وہ بیرون ملک جانے کے بعد دوسرے ملکوں کے خفیہ اداروں کو تہران کے ایٹمی پروگرام کے راز بتانے میں ملوث ہیں۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے’’سی آئی اے‘‘ کی انسداد دہشت گردی یونٹ کےسابق عہدیدار "فیلپ جیرالڈی" کا کہنا ہے کہ ایران میں ایسے سائنسدانوں کی کمی نہیں جنہوں نے تہران کے متنازع جوہری پروگرام کے بارے میں دوسرے ملکوں کے خفیہ اداروں کو اہم راز فراہم کیے ہیں۔ مگر بعد ازاں ان کے بارے میں بوجوہ رائے تبدیل کی گئی۔

مسٹر جیرالڈی کا کہنا ہے کہ میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ایران میں سائنسدانوں، انجینیروں، عسکری رہ نماؤں اور دیگر ماہرین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو کسی نا کسی شکل میں امریکا، سعودی عرب اور ترکی کو تہران کے جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات مہیا کرتی رہی ہے۔

سی آئی اے کے سابق عہدیدار کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام سے وابستہ ایرانی شخصیت کے وفادار بیرون ملک سفر کرتے رہتے ہیں اور دوسرے ملکوں کے خفیہ ادارے ان کے ذریعے پہنچائی گئی معلومات سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔

جیرالڈی کا کہنا تھا کہ انہیں یہ خبر ملی ہے کہ امریکی خفیہ ادارے نے شہرام امیری سے خفیہ راز حاصل کرنے کے عوض اسے پانچ ملین ڈالر کی خطیر رقم پیش کی تھی۔ محدود سی معلومات کے عوض اتنی بھاری رقم کی ادائیگی ناقابل فہم ہے۔

تاہم ساتھ ہی جیرالڈی کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے کے جانب سے شہرام امیری کو اتنی بڑی رقم دینے کا مقصد ایران کے دوسرے سائنسدانوں کو امریکا فرار کی ترغیب دینا تھا۔

ایران میں جوہری راز فروخت کرنے کےجرم میں سزا پانے والوں میں شہرام امیری تنہا نہیں۔ ان کے اس قافلے ساتھیوں میں فزکس کے ایک نوجوان سائنسدان امید کوکبی بھی شامل ہیں۔ جنہیں سنہ 2011ء میں محض شبے کی بنیاد پر امریکا سے واپسی پر حراست میں لیا گیا۔ کینسر کے مریض ہونے کے باوجود کوکبی گذشتہ چھ سال سے تہران کی بدنام زمانہ ’’ایفن’’ جیل میں قید ہیں۔

ایرانی حکام نے الزام عاید کیا ہے کہ کوکبی نے امریکا میں مقیم اپنے خاندان سے ملاقات کی آڑ میں امریکیوں کو تہران کے جوہری پروگرام کے بارے میں حساس معلومات فراہم کی تھیں۔ امید کوکبی کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

جنوری 2011ء سے پابند سلاسل امید کوکبی کا خاندان امریکا میں مقیم ہے۔ وہ خود بھی امریکا میں ٹیکساس یونیورسٹی سے جوہری توانائی کے شعبے میں تعلیم یافتہ ہیں۔ امید کوکبی فزکس میں متعدد نمایاں خدمات انجام دینے کے نتیجے میں کئی عالمی ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں