پہلے ترک فوجی افسر کا امریکا میں پناہ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دو امریکی ذمہ داران نے ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ امریکا میں نیٹو مشن میں شامل ترکی کے ایک فوجی افسر نے امریکا میں پناہ طلب کی ہے۔ گزشتہ ماہ فوجی انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد تُرک حکومت کی جانب سے مذکورہ فوجی افسر کو طلب کیا گیا تھا۔

امریکا میں ترکی کی فوج کے افسر کی جانب سے پناہ طلب کرنے کی یہ پہلی کوشش ہے۔ یہ کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ ترکی کی حکومت کی جانب سے فوج میں تطہیر کا عمل جاری ہے۔

پناہ کی اس کوشش کے نتیجے میں امریکا اور ترکی کے درمیان تعلقات کی کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے۔

امریکی ذمہ داران نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ یہ ترک فوجی افسر امریکی ریاست ورجینیا میں نیٹو کی قیادت کے صدر دفتر میں کام کر رہا ہے۔ دونوں ذمہ داران ترک فوجی کا نام یا اس کا عہدہ نہیں بتایا ۔ ادھر واشنگٹن میں ترکی کے سفارت خانے کے ایک ذمہ دار کے مطابق تُرک بحریہ کے ایڈمرل مصطفى اوگورلو نے خود کو حکام کے حوالے نہیں کیا ہے۔ اوگورلو کی گرفتاری کے وارنٹ گزشتہ ماہ جاری ہوئے تھے۔

ترک ذمہ دار کے مطابق 22 جولائی کو اوگورلو نے اپنے بیجز اور شناختی کارڈ فوجی اڈے میں چھوڑ دیے تھے اور اس کے بعد ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ ذمہ دار نے مزید بتایا کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ آیا مذکورہ ایڈمرل نے کہیں پناہ کا مطالبہ کیا ہے یا نہیں۔ ترک ذمہ دار کے مطابق امریکا سے دو دیگر افسروں کو ترکی بلایا گیا ہے۔ ان میں ایک واپس آیا ہے جب کہ دوسرا جلد ہی آ جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں