16 برس تک بھوک ہڑتال کرنے والی آہنی خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت میں انسانی حقوق کی کارکن اروم شرمیلا نے ایک متنازعہ سکیورٹی قانون کے خلاف 16 برس سے جاری بھوک ہڑتال ختم کر کے سیاسی میدان میں داخل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

صحافیوں کے سامنے اپنے مُنہ میں شہد کے قطرے ڈالتے ہوئے شرمیلا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس قانون کے خلاف جنگ جاری رکھیں گی جو ریاست منی پور کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کو وسیع اختیارات دیتا ہے۔ ان اختیارآت میں بنا انتباہ کے املاک کی تلاشی اور گولی چلانا شامل ہیں۔

پریس کانفرنس میں وزیراعظم نریندر مودی سے مذکورہ قانون کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے اروم نے کہا کہ " اس ظالمانہ قانون کے بغیر بھی آپ ہمارے ساتھ رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ آپ پدری محبت کے ساتھ بنا کسی امتیاز کے ہم پر حکمرانی کر سکتے ہیں"۔

منی پور میں آہنی خاتون کے نام سے مشہور شرمیلا نے اپنی عمر کے 16 سال ہسپتال میں گزارے جہاں انہیں عدلیہ کے زیرنگرانی جبری طور پر غذا فراہم کی جا رہی تھی جب کہ بھارت میں خودکشی کی کوشش کو جرم شمار کیا جاتا ہے۔

اس سے قبل منی پور کے شہر امپھل میں عدالت کے باہر شرمیلا یہ کہہ چکی ہیں کہ وہ "ایک طبعی انسان کے طور پر" زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے آئندہ سال ہونے والے ریاست کے انتخابات میں شرکت کا بھی عزم کیا۔

اروم شرمیلا نے 2000ء میں اپنے گھر کے قریب سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 10 افراد کی ہلاکت کے بعد بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ اس سے قبل باغیوں نے ایک فوجی قافلے کو حملے کا نشانہ بنایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں