ترکی کی روس کو شام میں داعش مخالف مشترکہ کارروائیوں کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی نے روس کو شام میں داعش کے خلاف مشترکہ جنگی کارروائیوں کی پیش کش کی ہے۔

ترک وزیر خارجہ مولود کاوس اوغلو نے صدر رجب طیب ایردوآن کی سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کے دو روز بعد یہ پیش کش کی ہے جبکہ ایک ترک وفد شام میں مشترکہ کارروائیوں کو مربوط بنانے اور دوسرے دوطرفہ امور پر بات چیت کے سلسلے میں روس کے دورے پر ہے۔

وزیر خارجہ کاوس اوغلو نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل این ٹی وی کے ساتھ براہ راست نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ہم تمام تفصیل پر تبادلہ خیال کریں گے۔ہم نے روس سے ہمیشہ داعش مخالف مشترکہ کارروائیوں کے سلسلے میں بات کی ہے مگر یہ تجویز ابھی تک زیر غور ہے''۔

انھوں نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں مشترکہ دشمن داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ترکی کے ساتھ مل کر لڑے۔ہمیں اس دشمن کے خلاف مل جل کر لڑنا چاہیے تاکہ جتنا جلد ممکن ہو،اس کا صفایا کیا جاسکے۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس گروپ کا خاتمہ نہ کیا گیا تو یہ اپنی توسیع جاری رکھے گا اور دوسرے ملکوں تک بھی پھیل جائے گا۔انھوں نے انٹرویو میں بتایا کہ اس وقت ترکی کا عسکری اور انٹیلی جنس حکام پر مشتمل ایک تین رکنی وفد ماسکو میں ہے اور وہ منگل کے روز سربراہ ملاقات میں طے پائے فیصلوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں روسی حکام سے بات چیت کررہا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ شام میں داعش کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے لیے ایک میکانزم طے پاجائے گا اور روس اور ترکی کے درمیان قریبی تعاون سے مستقبل میں طیارہ گرائے جانے ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''شام میں بہت سے ممالک کارروائیاں کررہے ہیں،اس لیے غلطیاں ہوسکتی ہیں۔چنانچہ اس صورت حال سے بچنے کے لیے ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک انٹیلی جنس کے تبادلے سمیت تعاون اور یک جہتی کی ضرورت ہے''۔انھوں نے روسی اور ترک صدر کے درمیان براہ راست مواصلاتی رابطے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں