امریکی تاریخ کی غیر مانوس ترین اور خطر ناک ترین انتخابی مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ہر گزرتے دن کے ساتھ ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ ان کی انتخابی مہم امریکا کی تاریخ کی غیرمانوس ترین اور بعض کے نزدیک خطرناک ترین مہم ہے۔

ماضی میں کسی بھی سابق امیدوار نے صدارتی انتخابات سے متعلق معیارات، پیمانوں اور روایتوں کا دامن اس طریقے سے نہیں چھوڑا جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے مخاصمین کو چیلنج کیا بلکہ اپنی جماعت کی اہم شخصیات کو بھی پچھاڑا۔

ٹرمپ کے افعال سے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کہ انہیں ایسی مامونیت اور تحفظ حاصل ہیں جن کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ دشمن اور دوست سب ہی کو چکرا دینے والے نت نئے مواقف کے سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے بعد ہم یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے کسی بھی چیز کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔

ٹرمپ کے حیران کن اور دھچکا پہنچانے والے بیانات میں اس وقت سے زیادہ اضافہ ہوا جب انہیں ریپبلکن پارٹی کی جنرل کانفرنس میں سرکاری طور پر نامزد کردیا گیا۔ انہوں نے پہلے عراق میں جان گنوا دینے والے فوجی کے مسلمان والدین کو اہانت کا نشانہ بنایا۔ پھر یہ اعلان کر ڈالا کہ وہ پارلیمنٹ کے ریپبلکن اسپیکر کو ان کی انتخابی مہم میں سپورٹ نہیں کریں گے۔ اس کے بعد کڑی نکتہ چینیوں اور بھونچکا کر دینے والے مختلف نوعیت کے بیانات میں اضافہ ہوگیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی میلے کے دوران ایک موقع پر یہ کہا کہ اگر ہیلری کلنٹن نے صدارتی انتخابات جیت کر آتشیں اسلحے کے حصول سے متعلق قواتین تبدیل کرنے کے واسطے سپریم کورٹ میں آزاد خیال ججوں کے تقرر کا فیصلہ کیا.. تو ٹرمپ کے حامی جو کہ آئین میں "دوسری ترمیم" (جو شہری کے آتشیں ہتھیار کے حصول کو یقینی بناتی ہے) پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں، ہیلری کے خلاف تشدد کا راستہ اپنا سکتے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے بعد میں دعوی کیا کہ ان کا مقصد یہ تھا کہ دوسری ترمیم پر ڈٹے ہوئے افراد انتخابات میں ہیلری کی ہزیمت کے لیے خود کو منظم کریں گے تاہم یہ واضح ہے کہ ٹرمپ درحقیقت ہیلری کے انتخاب کے بعد کے ممکنہ منظرنامے کی بات کر رہے تھے۔

ابھی یہ دھچکا کم نہ ہوا تھا کہ ٹرمپ نے اگلے روز فلوریڈا میں اپنے حامیوں کے سامنے بنا کسی ہچکچاہٹ کے یہ بول دیا کہ "داعش" تنظیم صدر اوباما کا اکرام کرتی ہے۔ انہوں مزید کہا کہ یہ اعزاز و اکرام اس واسطے ہے کہ اوباما ہی "داعش کے بانی" ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ جملہ چار مرتبہ دُہرایا۔ چوں کہ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کی قیادت باراک اوبا کے نہیں بلکہ ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کے خلاف کر رہے ہیں اس لیے ٹرمپ نے یہ دعوی کیا کہ ان کی حریف امیدوار اوباما کے ساتھ داعش کی "شریک بانی" ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ ان کے ہمنواؤں کا حلقہ ان کی کہی ہوئی ہر بات کو سچ سمجھ لیتا ہے اور مخالف امیدوار کا ریکارڈ مسخ کرنے کے لیے ٹرمپ کی مبالغہ آمیزی کی زیادہ پرواہ نہیں کرتا۔

پس ٹرمپ ایک ہی وقت میں عراق کی جنگ کے ساتھ بھی ہیں اور مخالف بھی، وہ اسقاط حمل کے ساتھ بھی ہیں اور مخالف بھی اور وہ ہیلتھ انشورنش کے ساتھ بھی ہیں اس کے خلاف بھی۔ ٹرمپ کے حامیوں کے نزدیک یہ متضاد مواقف نہیں بلکہ ضمنی تفصیلات ہیں۔

مختلف سروے رپورٹوں کے مطابق ہیلری کلنٹن نہ صرف قومی سطح کے سروے میں برتری رکھتی ہیں بلکہ اہم ترین سروے میں بھی یعنی کہ ان ریاستوں میں جو وہائٹ ہاؤس کی دوڑ میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔

این بی سی نیٹ ورک اور وال اسٹریٹ جرنل اخبار کے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیلری مرکزی اہمیت کی ریاستوں میں ٹرمپ سے آگے ہیں۔ ان میں اوہایو (43 بمقابلہ 38) ، پینسلوینیا (48 بمقابلہ 37)اور آئیوا (41 بمقابلہ 37) شامل ہیں۔ ریبپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کی کانفرنسوں کے انعقاد کے بعد ہونے والے 6 سروے کے نتائج کے مطابق ہیلری کے لیے تائید کی شرح 49 فی صد جب کہ ٹرمپ کے لیے 39 فی صد ہے۔

ایک دوسرے اشاریے سے یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ ٹرمپ کو مختلف محاذوں پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پارلیمنٹ اور سینیٹ کے ارکان کی جانب سے ریپبلکن پارٹی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بغاوت کی تحریک وسیع ہوگئی ہے۔

ایک اہم پیش رفت میں امریکی سینیٹ کی معتدل مزاج خاتون رکن سوزان کولنز کانگریس میں ٹرمپ کے مخالف ارکان سینیٹ اور ارکان پارلیمنٹ کی فہرست میں شامل ہوگئی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سوزان نے ٹرمپ پر ناپختہ کاری اور عدم برداشت کا مورود الزام ٹھہرایا۔

اس کے علاوہ سابق ریپبلکن صدور مثلا رونالڈ ریگن، جارج بش سینئر اور جارج بش جونیئر کے زمانوں میں سکیورٹی ، دفاع اور انٹیلجنس کے شعبوں میں حساس منصبوں پر فائز درجنوں سابق ذمہ داران نے بھی ایک کھلے خط میں ٹرمپ کو سیاسی طمانچہ رسید کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ صدر بننے کے لیے "ذاتی خصوصیات ، اقدار اور تجربے سے محروم ہیں" اور منتخب ہو جانے کی صورت میں وہ ملک کے مفاد اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہوں گے بلکہ یقینا وہ "امریکا کی تاریخ میں سے سے زیادہ ناپختہ کار صدر ہوں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں