اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کا بیان ناقابل قبول : ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین کے اس بیان پر کڑی تنقید کی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ انقرہ کو ناکام فوجی بغاوت کے بعد اب مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کردینی چاہییں۔

یو این ہائی کمشنر نے اسی ہفتے انقرہ پر زوردیا ہے کہ وہ ناکام فوجی بغاوت کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد کے حقوق کا احترام کرے۔ترک وزارت خارجہ کے ترجمان تانجو بیلجیک نے زید رعد کے اس بیان کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ایک ایسے عہدے دار کا یہ ایک بدقسمت بیان ہے جن کی ذمے داری ہی انسانی حقوق کا تحفظ ہے،چہ جائیکہ وہ یہ کہتے کہ انھیں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے والوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور وہ خونیں بغاوت برپا کرنے والوں کی مذمت کرتے،اس کے بجائے وہ ان کے احترام کی بات کررہے ہیں۔

مغربی ممالک صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے بعد از ناکام فوجی بغاوت اقدامات پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے حکومت مخالفین کے خلاف تطہیر کا عمل شروع کررکھا ہے۔

مگر بہت سے ترک اہل مغرب کی جانب سے متشدد فوجی بغاوت میں ملوث افراد کے خلاف سخت ردعمل ظاہر نہ کرنے پر سخت غصے میں ہیں۔وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فوجی بغاوت کے بعد ترکی کے اقدامات قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے بالکل عین مطابق ہیں۔انھوں نے ہائی کمشنر رعدالحسنین کو ایک مرتبہ پھر ترکی کے دورے کی دعوت دی ہے۔

ترکی میں صدر ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوّث فوجیوں ،سرکاری ملازمین ،عدلیہ کے ارکان اور ان کے مدد گار عام افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک ہزاروں افراد کو گرفتار ،برطرف ،معطل یا پابند سلاسل کیا جاچکا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہے۔

ترک صدر اور دوسرے اعلیٰ سیاسی اور عسکری عہدے دار امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن کی تحریک کو خونیں فوجی بغاوت کا ذمے دار ٹھہرا رہے ہیں اور ان کے حامیوں کے خلاف ترکی کے تمام محکموں اور اداروں میں تطہیر کا عمل جاری ہے جبکہ فتح اللہ گولن اس ناکام فوجی بغاوت سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں