ایران میں قیدیوں کو پھانسی دیے جانے کے ہولناک مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پھانسی اور سزائے موت شاید دو ایسے الفاظ ہیں جو ایران میں بہ کثرت بولے اور لکھے جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہے کہ معمولی معمولی جرائم میں قید شہریوں کو بھی سزائے موت سے کم کسی سزا پر اکتفا نہیں کیا جاتا۔ حال ہی میں ایرانی حکومت نے بیس سے زاید کرد سنی کارکنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ دو روز گذرے تو مزید چار کارکنوں کو کرمان شاہ کے رجائی شہر جیل میں پھانسی دی گئی۔

ایران میں پھانسیوں کا عمل جہاں سرے عام اور بھرے مجمع میں ہوتا ہے وہیں سزائے موت کے لیے انتہائی ظالمانہ حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے واویلے کےباوجود تہران حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔

ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے پھانسی کی سزاؤں پرعمل درآمد کے مناظر کی چند جھلکیاں دکھائی ہیں جو شام کے شہر الرقہ اور عراق کے موصل میں دولت اسلامی "داعش" کے ہاتھوں سزائے موت کے مناظر سے کسی طور پر کم ہولناک نہیں ہیں۔

لوگوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے پھانسی کا عمل تو سرعام ہوتا ہی ہے مگر جب کسی قیدی کی سزائے موت پرعمل درآمد مقصود ہوتا ہے تو اس کے لیے دو دن پہلے ہی کسی کھلے میدان یا شاہراہ عام پر تختہ دار تیار کرنے کا عمل شروع کردیاجاتا ہے۔

دو روز قبل وسسطی ایران کے کازرون شہر میں دو قیدیوں کو پھانسی دی گئی تو پھانسی چڑھنے والے شہریوں کے لواحقین سمیت بڑی تعداد میں لوگوں کو ان کی موت کے خوفناک مناظر دیکھنے پر مجبور کیا گیا۔

ایرانی رجیم کا ستم قیدیوں کو پھانسی دینے پربھی ختم نہیں ہوتا بلکہ مقتولین کے لواحقین کو اس کے بعد بھی کئی اور عذاب جھیلنے ہوتے ہیں۔ مقتول کی آخری رسومات کو خفیہ رکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ تعزیتی تقریبات منعقد کرنے پرپابندی ہوتی ہے۔ کھلے مقامات پر جنازے کے اہتمام اور نماز جنازہ میں زیادہ لوگوں کی شرکت کی ممانعت ہوتی ہے۔ بعض اوقات کو ’سرکاری کارندے‘ خود ہی مقتولین کو گڑھے کھود کر ان میں ڈال دیتے ہیں۔ ان کے لواحقین کو ان کی قبر تک کی نشاندہی نہیں کی جاتی۔

ایران میں قیدیوں کو کرین کے ذریعے پھانسی دیے جانے کے ساتھ کچھ نئے طریقے بھی متعارف کرائے گئے ہیں جو غالبا غیر مانوس ہیں۔ مثلا قیدیوں کو مسافر بسوں میں پھانسی دی جاتی ہے۔

ذیل میں ایران میں قیدیوں کو دی جانے والی سزائے موت کے چند مناظر پیش ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں