یمن: اسلحے کے سائے میں پارلیمان کا غیر قانونی اجلاس

حوثی ملیشیا اور علی صالح اپنی سپریم سیاسی کونسل کی منظوری کے لیے درکار حمایت میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار بھگوڑے فوجیوں پر مشتمل فورسز نے پارلیمان کا ایک اجلاس بلایا ہے تا کہ وہ اپنے زیر نگیں علاقوں کا انتظام وانصرام چلانے کے لیے گذشتہ ہفتے اعلان کردہ سپریم سیاسی کونسل کی منظوری حاصل کرسکیں۔

لیکن وہ اپنی اس کوشش میں ناکام رہے ہیں۔انھوں نے صنعا میں موجود یمنی پارلیمان کے ارکان کو بندوق کی نوک پر اجلاس میں شریک ہونے کی دھمکی دی تھی لیکن اس کے باوجود پارلیمان کا کورم پورا نہیں ہوسکا اور حوثی اور علی صالح اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے ہیں۔

یمنی قانون کے تحت ایوان کا کورم پورا ہونے کے لیے 301 اراکین میں سے 151 کی شرکت ضروری ہے اور اتنے ارکان کی موجودگی ہی میں قانون سازی کی جاسکتی ہے لیکن العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق ہفتے کے روز اجلاس میں صرف 80،85 ارکان شریک ہوئے ہیں۔

ارکان کی اتنی تھوڑی تعداد کے باوجود حوثیوں اور صالح کی وفادارملیشیا نے سیاسی کونسل کی منظوری کے لیے رائے شماری کی کوشش جاری رکھی۔اس موقع پر مسلح افراد کی بڑی تعداد بھی پارلیمان کی عمارت میں موجود تھی۔

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیر مملکت برائے نفاذ مذاکراتی اقدامات یاسرالرائنی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اجلاس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ معزول صدر علی عبداللہ صالح پارلیمان کی بچی کچھی ساکھ اور قانونی جواز کے بھی درپے ہیں۔

ذرائع کے مطابق صنعا میں موجود اراکین اسمبلی نے وہاں سے بھاگ نکلنے کی بہتیری کوششیں کی ہیں لیکن وہ اس میں ناکام رہے ہیں اور حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں نے انھیں ایک طرح سے یرغمال بنا رکھا ہے۔انھیں آج کے اجلاس میں عدم شرکت کی صورت میں قتل کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔یہ اجلاس علی صالح نے کسی قانونی جواز کے بغیر طلب کیا تھا۔

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے سرکاری خبررساں ایجنسی سبا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں پارلیمان کے اس اجلاس کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور اجلاس میں شریک ہونے والے ارکان کو خبردار کیا ہے کہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے جمعے کے روز ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ یمن میں جاری خلاف ورزیاں ناقابل قبول ہیں اور ان سے امن عمل میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ یمن میں جاری بحران کا جامع حل صرف سیاسی ذرائع ہی سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں