.

کویت میں دراندازی کی کوشش میں 10 ایرانی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اس کے ساحلی محافظوں نے دس ایرانی دراندازوں کو اپنی علاقائی حدود میں گرفتار کر لیا ہے۔وہ ملک میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔

دوسری جانب ایران کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد مچھیرے ہیں اور ان کی گرفتاری کا کسی سرحدی خلاف ورزی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کویت کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق وزارت داخلہ نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ایک ایرانی شخص نے کویتی ساحلی محافظوں کا خود کو حوالے کرنے کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا اور وہ زخمی ہوگیا ہے۔

وزارت داخلہ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک تصویر بھی جاری کی ہے۔اس میں نو افراد کو گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ان کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس نے جنوبی صوبے بوشہر میں کوسٹ گارڈ کے ڈپٹی چیف علی حجت پور کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ بعض ایرانی مچھیروں کو ایک جھگڑے کے بعد کویت میں گرفتار کیا گیا ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز اس بیان میں کہا تھا کہ یہ جھگڑا کویتی سرزمین پر ہوا تھا اور ایرانیوں کی حراست کا سرحدی خلاف ورزی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان افراد کی گرفتاری کے بعد ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان سخت بیان بازی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے اور خلیجی عرب ممالک اس الزام کا اعادہ کرسکتے ہیں کہ ایران ان کے داخلی امور میں مداخلت کررہا ہے۔ایران پر پہلے ہی یہ الزام عاید کیا جارہا ہے کہ وہ بحرین اور یمن کے داخلی امور میں دخیل ہے اور ان دونوں ممالک میں گڑبڑ کے پیچھے اس کا ہاتھ کارفرما ہے۔

واضح رہے کہ کویت کی ایک اپیل عدالت نے اگلے روز ایک شیعہ شہری کو ایران اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ روابط استوار کرنے کے جرم میں سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔اسی کیس میں ماخوذ ایک ایرانی کے خلاف بھی اس کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور عدالت نے اس کو سزائے موت سنائی تھی۔