بشارالاسد اسرائیل سے مدد طلب کرنے پر مجبور

اسد رجیم کی مدد پر صہیونی ریاست کی سلامتی کی ضمانت کا عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام میں گذشتہ پانچ برس سے جاری بغاوت کی تحریک کے دوران صدر بشار الاسد پر ایک ایسا وقت بھی آپہنچا ہے کہ وہ روس کے ذریعے اپنے سب سے بڑے اور خطرناک دشمن اسرائیل سے بھی مدد مانگنے پر مجبور ہیں۔

امریکی اخبار "ورلڈ ٹرائبیون" نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ چند ماہ قبل اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دورہ روس سے چندے قبل بشار الاسد نے بھی روس کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے روسی ہم منصب اور اسد رجیم کے سب سے بڑے حامی ولادی میر پوتن سے کہا تھا کہ وہ نیتن یاھو کو دمشق کی مدد پر قائل کریں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر اسد نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر تل بیب ہماری مدد کرتا ہے تو ہم اسرائیل سے متصل سرحد پر طویل عرصےتک امن ومان کی ضمانت دینے کو تیار ہیں۔ البتہ اسرائیل کے شمالی محاذ پر حزب اللہ کی طرف سے کسی قسم ی گڑ بڑ کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد کی اس پیشکش کو روسی حکام نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو تک پہنچا دیا تھا۔

صدر اسد کی طرف سے صہیونی ریاست سے مدد طلبی کا واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایسا ہی ایک مطالبہ اسرائیل بھی شام سے کرچکا ہے۔ اسرائیلی حکومت روس کے ذریعے اسد رجیم کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ وہ وادی گولان کا علاقہ 99 سال کے لیے اسرائیل کو سپرد کردے اور اس پر ملکیت کا دعویٰ نہ کرے۔

اخباری رپورٹس کے مطابق شام میں ایران اور حزب اللہ کو درپیش بھاری جانی اور مالی نقصان کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتن اسرائیل اور شام کے درمیان کسی معاہدے کی کوشش کررہے ہیں۔ چونکہ ایران کو اندرون ملک کردوں اور دیگر علاحدگی پسندوں کی شورش کا بھی سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اسد رجیم کو بچانے کے لیے زیادہ توجہ دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ اگر اسرائیلی سرحد کی طرف سے بشارالاسد کوتحفظ مل جائے تو وہ دوسرے محاذوں پر باغیوں سے نمٹنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں