ترکی میں امریکی نیوکلیئر ہتھیاروں پر سکیورٹی خدشات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پیر کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ترکی میں شام کی سرحد کے نزدیک واقع فضائی اڈے "اینجرلک" میں ذخیرہ کیے گئے درجنوں امریکی نیوکلیئر ہتھیار "دہشت گردوں یا دیگر دشمن قوتوں" کے قبضے میں جانے کا خطرہ ہے۔

ماہرین طویل عرصے سے شام سے 110 کلومیٹر کی مسافت پر ذخیرہ کیے گئے تقریبا 50 نیوکلیئر ہتھیاروں کے اس ڈپو کی سکیورٹی کے حوالے سے خبردار کر رہے ہیں۔ تاہم ترکی میں 15 جولائی کو افوجی انقلاب کی کوشش نے اس کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔

غیر سیاسی تجزیات کے گروپ " Stimson Center " کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ " یہ جاننا ممکن نہیں کہ آیا ترکی میں میں کسی طویل خانہ جنگی کی صورت میں امریکا ان ہتھیاروں پر کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکے گا یا نہیں"۔

داعش تنظیم کے خلاف امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے لیے "اینجرلک" کا فضائی اڈہ تزویراتی کردار ادا کر رہا ہے۔ عراق اور شام میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لے اتحادی طیارے یہاں سے اڑان بھرتے ہیں۔

واضح رہے کہ پینٹاگون نے مارچ میں سکیورٹی خدشات کے سبب جنوبی ترکی میں موجود اپنے فوجیوں اور شہری ملازمین کے اہل خانہ کو نکالنے کا حکم جاری کیا تھا۔ گزشتہ ماہ انقلاب کی کوشش کو سپورٹ کرنے کے الزام میں انقرہ حکام کی جانب سے تطہیر کی مہم کے دوران حراست میں لیے جانے والے سیکڑوں جنرلوں اور ججوں میں اینجرلک فضائی اڈے کا ترک کمانڈر بھی شامل ہے۔

رپورٹ تیار کرنے والوں میں شریک ایک خاتون تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "سکیورٹی کے نقطہ نظر سے اینجرلک فضائی اڈے میں 50 کے قریب امریکی نیوکلیئر ہتھیاروں کا ذخیرہ کرنا ایک جوکھم ہے"۔

مذکورہ خاتون ماہر نے ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ " محض تحفظ کی تدابیر سے خطرہ ختم نہیں ہوجاتا.. اگر کوئی انقلاب آتا ہے تو ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ہم کنٹرول برقرار رکھ سکیں گے"۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے منع کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں