نیویارک میں قتل کیے جانے والے امام مسجد کی وڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کے شہر نیویارک میں کوئنز کے علاقے میں قتل کر دیے جانے والے ایک مسجد کے امام اور ان کے نائب کی وڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ دونوں افراد کو ہفتے کی دوپہر سر میں گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔ وڈیو میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ امام مولانا اخون جی اور ان کے 64 سالہ نائب طہار الدین پیچھے کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بننے کے بعد زمین پر گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یوٹیوب پر نیویارک پوسٹ اخبار کی ویب سائٹ کے حوالے سے جاری ہونے والی وڈیو کا منظر دور نصب ایک سکیورٹی کیمرے کے ذریعے عکس بند ہوا ہے۔ جس میں پیش امام اور ان کے ساتھی پیدل چلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور پھر ایک نامعلوم شخص (جس کو پولیس نے دبلا اور لمبا قرار دیا) تیزی سے ان کی طرف لپکا اور پیچھے سے دونوں کے سروں میں گولیاں مار کر فرار ہو گیا۔ مولانا اخون جی تو موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جب کہ ان کے ساتھی نے تقریبا ایک گھنٹے بعد نزدیک واقع "جمیکا ہسپتال" میں دم توڑا۔

بنگلہ دیش سے آئے ہوئے 55 سالہ امام مولانا اخون جی دو سال سے نیویارک میں الفرقان مسجد کے امام کے طور پر ذمہ داری سر انجام دے رہے تھے۔ وہ تین بیٹوں کے باپ تھے ان میں سے ایک بیٹے نعیم نے جس کی عمر 23 برس ہے بتایا کہ "میرے والد امن کے لیے نیویارک آئے تھے ، ہم صرف انصاف اور ان کے قتل کی وجہ جاننا چاہتے ہیں"۔ اخبار کے مطابق فائرنگ کرنے والے شخص نے اپنی آنکھوں پر آٹھ کونوں والے فریم کا چشمہ لگا رکھا تھا اور اس کی ہلکی داڑھی بھی تھی۔

عینی شاہدین نے اور امریکی میڈیا نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ قتل کے چہرے کے خدوخال لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والوں کی طرح تھے اور اس نے نیلے رنگ کی قمیض پہن رکھی تھی جب ک ہاتھ میں ایک بڑا سیاہ پستول تھا۔ نیویارک کے میئر کے دفتر سے سارہ سعید نے بتایا کہ نیویارک پولیس اس واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہے جس میں نفرت کی بنیاد پر حملے کا پہلو بھی شامل ہے۔

واقعے کے بعد نیویارک میں مسلم کمیونٹی کے رہ نما حرکت میں آ گئے۔ ان میں بعض کا کہنا ہے کہ قتل کی یہ کارروائی ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے پس منظر کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے خطاب کو "اسلام اور غیرملکیوں کی نفرت میں اضافے کا باعث" قرار دیتے ہوئے مظاہرہ بھی کیا۔ مقتول پیش امام مولانا اخون جی کو اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے رواں ہفتے بنگلہ دیش روانہ ہونا تھا تاہم اب ان کی اپنے وطن تدفین کے لیے پہنچے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں