.

شام، روس نہتے شہریوں پر ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کے مرتکب

خطرناک اسلحے سے حلب اور ادلب جل کر بھسم ہوگئے: ہیومن رائٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’’ہیومن رائٹس واچ‘‘ نے شام میں روسی فوج اور صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز کی جانب سے حلب اور ادلب میں نہتے شہریوں پر ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ روس اور شامی فوج نے حلب اور ادلب کو آتش گیر اسلحہ کے اندھا دھند استعمال سے جلا کر بھسم کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اپنے ایک بیان میں اسدی فوج، اجرتی قاتلوں اور روسی فوج کی طرف سے معصوم شہریوں پر بمباری کو شرمناک قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ روس اور بشارالاسد کی وفادار فوجیں انتہائی مہلک، تباہ کن اور جلا کر راکھ کر دینے والا اسلحہ بے دریغ استعمال کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کا جانی نقصان ہو رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری آبادیوں پر گرائے گئے آتش گیر بم بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتے اور آگ لگا دیتے ہیں۔ ان سے نکلنے والی خطرناک گیسیں شہریوں کی ہڈیوں اور نظام تنفس کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ شام کے شہروں حلب اور ادلب میں گذشتہ چند ہفتوں میں 18 بار ایسے خوفناک اسلحے سے حملے کیے گئے۔

خیال رہے کہ شہریوں کے خلاف عالمی سطح پر ممنوعہ اسلحے کے استعمال پرپابندی کے باوجود شام میں سر عام اس طرح کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل ویتنام کی جنگ میں بھی ممنوعہ مہلک ہتھیار استعمال کیے گئے تھے مگر بعد میں آگ لگانے والے ہتھیاروں کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔

روس نے بھی اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال پرپابندی کے پروٹوکول پر دستخط کر رکھے ہیں مگر اس کے باوجود ماسکو شامی فوج کے ساتھ مل کر شام میں معصوم شہریوں پر ممنوعہ ہتھیار استعمال کررہا ہے۔