.

شکست خوردہ مصری صدارتی امیدواروں پر جاسوسی کا مقدمہ

ابو الفتوح اور صباحی کی گرفتاری کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن اور اندھا دھند مقدمات کے بعد دو سابق صدارتی امیدواروں کے خلاف بھی ایران اورلبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے لیے جاسوسی کے الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری پبلک پراسیکیوٹر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شکست خوردہ صدارتی امیدواروں حمدین الصباحی اور نیشنل پارٹی کے سربراہ عبدالمنعم ابو الفتوح سے پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کے لیے جاسوسی کے الزامات کی تحقیقات کریں۔

مصری پراسیکیوٹر ایڈووکیٹ نبیل صادق کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شکست خوردہ صدارتی امیدواروں ابو الفتوح اور حمدین الصباحی کو ’چیک لسٹ‘ میں شامل کیا گیا ہے۔ دونوں اس وقت بیرون ملک ہیں۔ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی نگرانی سخت کردی گئی ہے تاکہ ملزمان کی واپسی پر انہیں گرفتار کیا جاسکے۔

مصر کے دونوں سرکردہ سیاست دانوں کے خلاف یہ مقدمہ مصر کے ایک مقامی وکیل نے دائر کرایا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے حزب اللہ کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی ہے جو کہ مصر کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے گروپ کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے مترادف ہے۔

درخواست میں ایک دوسرے کیس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں معزول صدر محمد مرسی، اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع، جماعت کے رہ نما،حزب اللہ، پاسداران انقلاب اور فلسطینی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ پر الزام ہے کہ انہوں نے 25 جنوری 2011ء کو مصر میں رونما ہونے والی بغاوت کے دوران جیل توڑنے میں معاونت کی تھی۔