.

نیوکلیئر معاہدہ "بے ہودہ" ہے ، پابندیاں لوٹیں گی : ایرانی ذمہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی عدلیہ کے معاون برائے بین الاقوامی امور محمد جواد اردشير لاريجاني نے تہران اور 5+1 ممالک کے درمیان نیوکلیئر معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے معاہدے کے مواد کو "انتہائی بے ہودہ" قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران کو نقصان پہنچائے گا اور ساتھ ہی توقع ظاہر کی کہ تہران کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں زیادہ وسیع اور شدید پیمانے پر لوٹ کر آئیں گی۔

ایرانی نیوز ایجنسی "تسنيم" کے ساتھ انٹرویو میں لاریجانی کا کہنا تھا کہ سابق صدر احمدی نژاد نے اپنی مدت کے آخری برسوں میں حالیہ معاہدے کے متن سے "زیادہ بد ترین" تجاویز پیش کی تھیں تاہم اوباما انتظامیہ ان کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا نہیں چاہتی تھی۔

لاریجانی کے مطابق "اس معاہدے میں موجود بے ہودہ ارادوں کا مقصد ہماری نیوکلیئر صلاحیت کو تباہ کرنا اور ہمیں فلسطین کی سپورٹ سے روکنا ہے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ ہماری معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچانا چاہتے ہیں اور آخرکار ہمارے نظام کو دشوار ترین چیلنجوں کے شکنجے میں کسنا ہے"۔

ایرانی عدلیہ کے معاون نے صدر حسن روحانی کی حکومت پر حقیقت اور نیوکلیئر معاہدے کا متن چھپانے کا الزام عائد کیا۔

لاریجانی جو ایرانی عدلیہ میں "انسانی حقوق کی کمیٹی" کے سربراہ بھی ہیں، انہوں نے کہا کہ صدر روحانی کی ٹیم کی جانب سے امریکیوں کے مقابل اپنی حکمت عملی کو برابر کا سودمند قرار دینا سراسر بے بنیاد ہے۔

انہوں نے پابندیوں کے اٹھائے جانے کی رفتار اور روش پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ "طیاروں کے ذریعے رقوم کے بھیجے جانے کا یہ مطلب ہے کہ امریکا پابندیوں کا ڈھانچہ تبدیل نہیں کرنا چاہتا اور یہ انتہائی اہم نقطہ ہے"۔

لاریجانی نے اس بات پر زور دیا کہ " اس معاہدے کے پیچھے امریکیوں کا یہ مقصد ہے کہ وہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر پوری طرح قابو پالیں ، مزاحمت کے محور کی سپورٹ میں ایران کے کردار کو محدود کر دیں اور اسی طرح ایرانی نظام کو کمزور کر دیں۔"