.

فرانس: ساحلوں پر "بوركنی" پر پابندی، الجزائری سیاست دان میدان میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں خواتین کے لیے تیراکی کے "باوقار" لباس جس کو "بوركنی" کا نام دیا جاتا ہے، اس پر پابندی کے جواب میں سیاسی شخصیت اور الجزائری تاجر رشید نکّاز نے اعلان کیا ہے کہ وہ فرانس کے ساحلوں پر اس لباس کو پہننے والی مسلمان خواتین پر عائد کیے جانے والے تمام جرمانوں کی رقم وہ ادا کریں گے۔ یہ اعلان اس فیصلے کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے جس کے تحت بورکینی پہننے والی ہر خاتون پر 38 یورو جرمانہ عائد ہو گا۔

فیس بک پر اپنے ذاتی پیچ پر نكّاز کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام مسلمان خواتین کے جرمانوں کو برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ رشید نکاز نے اس نوعیت کے جرمانوں کی ادائیگی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے پورے یورپ میں برقع پہننے والی خواتین پر عائد کیے جانے والے جرمانوں کی ادائیگی کا فیصلہ کیا تھا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس کے لیے نکاز نے 2010 میں 10 لاکھ یورو کی رقم سے ایک فنڈ قائم کیا تھا۔

رشید نکاز کو فرانس میں "نقاب پوش خواتین کا وکیل" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ ایک سیاست داں اور الجزائری تاجر ہیں۔ ان کے پاس فرانس کی شہریت تھی جس سے وہ رضاکارانہ طور پر دست بردار ہو گئے۔ وہ 2014 میں الجزائر کے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار شریک بھی ہوئے تھے۔

فرانسیسی حکام نے ملک کے جنوبی شہر "کین" میں بورکنی پہننے پر 3 لڑکیوں کے خلاف جرمانہ عائد کیا۔ تیراکی کے اس "باوقار" لباس پر پابندی کے بعد علاقے کے ساحلوں پر تفتیشی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

فرانس میں بورکنی کے حوالے سے تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب جنوبی ساحل پر واقع دو قصبوں "کین" اور "ویلنسیو لوبے" کی بلدیہ اور جزیرہ "كورسيكا" کی ایک بلدیہ کی جانب سے ان علاقوں کے ساحلوں پر یہ باوقار لباس پہننے پر پابندی عائد کی گئی۔

بورکنی تیراکی کا لباس ہے جو عورت کے چہرے ، دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے سوا پورے جسم کو ڈھانپتا ہے۔ اس لباس نے مسلمان خواتین میں تیزی سے رواج پایا اور ربر سے بنے ہونے کی وجہ سے یہ تیراکی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

فرانسیسی حکام نے ساحلوں پر جسم کو چھپانے والا لباس پہننے کو یکسر طور مسترد کر دیا اور اس کو ریاست کی سیکولر شناخت کے خلاف شمار کیا ہے۔