.

ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی خفیہ رازوں پر بریفنگ کا سلسلہ شروع!

اوباما سمیت ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے خدشات کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والی دو مرکزی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو انٹیلی جنس بریفنگ کے سلسلے میں ریپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار اور متنازعہ بیانات کی شہرت رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلی بریفنگ دی گئی ہے۔

ایک مقامی امریکی ٹی وی کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کو دی جانے والی یہ بریفنگ امریکی سیکیورٹی ایجنسی ایف بی آئی کے نیویارک آفس میں دی گئی تھی اور اس کا انعقاد نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر کی جانب سے کیا گیا تھا۔

ان سیشنز کا مقصد ہوتا ہے کہ اگر امیدوار نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں جیت جائیں تو ان کی جانب سے اس عہدے کو سنبھالنے کی تیاری مکمل ہو۔ ان بریفنگ سیشنز کے دوران امریکا کو عالمی سطح پر درپیش خطرات سے متعلق معلومات دی جاتی ہے۔ مگر امریکی ٹی وی این بی سی کے مطابق ٹرمپ کو امریکی انٹیلی جنس آپریشنز اور جاسوسی سے متعلق کوئی بریفنگ نہیں دی گئی ہے۔

اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ ان کے دو مشیر بھی شامل تھے جن میں امریکی ریاست نیوجرسی کے گورنر کرس کرسٹی اور امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر ریٹائرڈ جنرل مائیکل فلین شامل ہیں۔

امریکا کی دوسری مرکزی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان خفیہ معلومات کو حاصل کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ امریکی صدر براک اوباما نے بھی ایک نیوز کانفرنس میں براہ راست نام لئے بغیر ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ "وہ اگر صدر بننا چاہتے ہیں تو انہیں سربراہ مملکت کا رویہ اپنانا ہوگا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ان بریفنگز کو حاصل کرنے کے بعد اس کے لوازمات کو دوسرے لوگوں تک نہ پہنچائیں۔"