.

امریکا میں اینکر بن جانے والی سعودی طالبہ کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

" تمہارا چہرہ کسی اینکر کا چہرہ نہیں ہے".. یہ جملہ اسکالر شپ پر امریکا جانے والی سعودی طالبہ ملاک آل داود کے لیے تحریک کا سبب بن گیا۔ اس کے نتیجے میں ملاک نے عزم کیا اور وہ اپنی کامیابی کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ پر غالب آتی چلی گئیں۔ ملاک کے مطابق ان کا یہ راستہ کانٹوں بھرا تھا مگر اس کے باوجود وہ امریکی سیٹلائٹ چینل mt10 news کی اسکرین پر بعض وڈیو رپورٹیں پیش کرنے والی پہلی " اینکر" بن گئیں۔

سعودی طالبہ نے مملکت کے مشرقی صوبے کے شہر صفوی میں متاز نمبروں سے اعلی ثانوی مرحلہ مکمل کرنے کے بعد امریکا کا رخ کیا۔ ملاک نے میڈیا کے حوالے سے "ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن" کی فیلڈ میں اسپیشلائزیشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ آئندہ سال کے وسط تک اپنی یونی ورسٹی کی تعلیم مکمل کر لیں گی۔

اس کے ساتھ ساتھ ملاکuindy tv چینل میں پروگرام پیش کرتی ہیں جہاں طلبہ کا ایک گروپ مختلف نوعیت کے پروگرام تیار کرتا ہے۔

پردیسیت "ایک درس گاہ"

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے ملاک نے کہا کہ امریکا میں پڑھائی اور زندگی انتہائی دلچسپ ہے۔ " روزانہ میں اپنی تعلیمی اور ذاتی زندگی میں کوئی نئی چیز سیکھتی ہوں۔ پردیسیت بھی بہت کچھ سکھاتی ہے"۔

ملاک کے مطابق ابتدا میں ان کو بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا بالخصوص انگریزی زبان کے حوالے سے تاہم ساتھی طلبہ نے زبان کے حوالے سے میری بہت مدد کی اور ابھی تک کر رہے ہیں۔

حجاب نے میرے لیے کوئی تنگی نہیں پیدا کی

ملاک کو چینل میں "باحجاب سعودی لڑکی" ہونے کے طور نمایاں حیثیت حاصل رہی۔ انہوں نے کہا کہ "مجھے حجاب کی وجہ سے کسی تنگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا"۔

ملاک نے واضح کیا کہ اولین کاوشوں کے بدلے ان کو انتہائی تمسخر آمیز مواقف کا سامنا کرنا پڑا اور سوشل میڈیا پر دل توڑ دینے والے تبصروں کو وہ آسانی سے نہیں بھلا سکتی ہیں۔ ملاک کے مطابق سب سے پہلا تبصرہ یہ تھا کہ " تمہارا چہرہ کسی اینکر کا چہرہ نہیں ہے ، آپ انسٹاگرام پر بلالیط (خلیجی ممالک میں کھانے کی ایک ڈش) بیچا کریں"۔

ملاک نے اعتراف کیا کہ وہ اس تبصرے سے بہت مایوس ہو گئی تھیں اور قریب تھا کہ وہ اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ کر سعودی عرب واپس لوٹ جاتیں۔ تاہم اس موقع پر ملاک کی بہن جو ملاک کے ساتھ اسی یونی ورسٹی میں پڑھ رہی تھی اس نے ملاک کی ہمت بندھائی اور حوصلہ افزائی کی۔

ملاک نے بتایا کہ انہوں نے اسی ہفتے یونی ورسٹی کے چینل میں درخواست دی اور ہفتے کے اختتام پر پہلی باحجاب سعودی اینکر کے طور پر ان کا انتخاب ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ "اس موقع پر مجھے بہت مسرت محسوس ہوئی اور میں بلالیط سمیت تمام منفی تبصروں کو بھول گئی"۔