.

سعودی اتحاد یمن سے طبیبان ماورائے سرحد کے انخلاء پر فوری بات چیت کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف جنگ آزما سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے پیرس میں قائم ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم طبیبان ماورائے سرحد (ایم ایس ایف) کی جانب سے چھے اسپتالوں سے اپنے عملہ کو واپس بلانے کے معاملے پر فوری بات چیت کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔

ایم ایس ایف نے جمعرات کو اتحاد پر بلا امتیاز بمباری کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کو یمن میں اپنی تنصیبات پر مہلک حملوں کو روکنے کے لیے اتحاد کی صلاحیت پر کوئی اعتماد نہیں رہا ہے۔

اس کے ردعمل میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمیں ایم ایس ایف کی جانب سے چھے اسپتالوں سے عملے کے انخلاء کے فیصلے پر بہت افسوس ہوا ہے۔ہم ایم ایس ایف کے ساتھ اس صورت حال کے خاتمے کے لیے فوری بات چیت کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم یہ بھی جان سکیں کہ ہم کیسے مل جل کر کام کرسکتے ہیں''۔

اتحاد نے مزید کہا ہے کہ ''وہ ایم ایس ایف کے یمن میں مشکل حالات میں کام کو بہت قدر واہمیت دیتا ہے۔اس نے مزید واضح کیا ہے کہ اس نے ٹھیک ٹھیک درستی کے حامل لیزر اور جی پی ایس گائیڈڈ ہتھیاروں کو باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے لیے استعمال کیا ہے۔اس نے پہلے اہداف کی متعدد مرتبہ تصدیق کی تھی اور پھر انھیں نشانہ بنایا تھا تاکہ شہریوں کی ہلاکتوں سے بچا جاسکے''۔

فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ ''اس کی ایک تحقیقاتی ٹیم گذشتہ ہفتے کے روز ایک اسپتال اور ایک اسکول پر فضائی حملوں کی آزادانہ تحقیقات کررہی ہے۔اتحاد نے یمن میں اپنی کارروائیوں کے دوران بین الاقوامی انسانی قانون کے مکمل احترام کا عزم کررکھا ہے''۔